پنجاب حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس ایسی اشیا کی خرید و فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہیں جاسوسی یا خفیہ نگرانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان اشیا میں کیمرے یا ریکارڈنگ سسٹم رکھنے والے چشمے، قلم اور گھڑیاں بھی شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کی نجی زندگی اور ذاتی معلومات کا تحفظ ہے، بالخصوص خواتین اور بچوں کو خفیہ نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے خطرات سے بچانا ہے۔
محکمہ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ جاسوسی اور خفیہ الیکٹرانک آلات کے استعمال، خرید اور فروخت کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جبکہ خفیہ کیمرے والی اشیا کے غیر قانونی استعمال پر سخت سزاؤں کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ اسے ایسے آلات کے ذریعے غیر قانونی نگرانی، ہراسانی اور بلیک میلنگ سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔
پنجاب کے ہوم سیکریٹری ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ڈان کو بتایا کہ پابندی کے عملی نفاذ کے لیے باضابطہ نوٹیفکیشن چند روز میں جاری کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اعلان نوٹیفکیشن سے پہلے اس لیے کیا گیا تاکہ تاجروں اور دیگر متعلقہ افراد کو ایسی اشیا ہٹانے یا تلف کرنے کے لیے مہلت مل سکے۔ رپورٹ کے مطابق دکانوں کے ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والی متعلقہ مصنوعات بھی حکام کی توجہ میں ہیں۔
اس معاملے کا ایک قانونی پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں کیمرے اور مائیکروفون رکھنے والے اسمارٹ گلاسز کی غیر منظم درآمد اور فروخت کے خلاف عوامی مفاد کی درخواست زیرِ سماعت ہے، جس میں نجی زندگی، وقار اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو اسمارٹ گلاسز کی غیر منظم درآمد اور فروخت سے متعلق سمری وفاقی کابینہ کو بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے لیکن رپورٹ کے وقت تک باضابطہ نفاذی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تھا۔ اس لیے پابندی کی قانونی حدود، مستثنیٰ آلات، نفاذ کے طریقہ کار اور سزا کی تفصیلی دفعات نوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوں گی۔
