وفاقی حکومت بجلی چوری، لائن لاسز اور لوڈشیڈنگ کے انتظام کو زیادہ ہدفی بنانے کے لیے Asset Performance Management System (APMS) مرحلہ وار متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ منصوبے کا ابتدائی پائلٹ لاہور اور قصور میں لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے ذریعے شروع کیا جائے گا۔ توانائی کے وفاقی وزیر اویس لغاری کے مطابق نظام کا مقصد ایسے علاقوں اور ٹرانسفارمرز کی زیادہ درست نشاندہی کرنا ہے جہاں بجلی چوری یا غیر معمولی نقصانات ہوتے ہیں، تاکہ پورے فیڈر کے ہزاروں صارفین کے بجائے مسئلے سے متعلق محدود حصے پر کارروائی کی جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اے پی ایم ایس کو ٹرانسفارمر سطح پر نصب کیا جائے گا اور اسے Advanced Metering Infrastructure یا دیگر اسمارٹ میٹرنگ نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس انتظام کے تحت ٹرانسفارمر کو فراہم کی جانے والی مجموعی بجلی اور اس سے منسلک صارفین کی ریکارڈ شدہ کھپت کا حقیقی وقت میں موازنہ کیا جا سکے گا۔ اگر فراہم کردہ اور بل شدہ یونٹس میں نمایاں فرق ہو تو تقسیم کار کمپنی کو ممکنہ چوری یا تکنیکی نقصان کی جگہ زیادہ محدود دائرے میں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔
موجودہ نظام میں 11 کے وی فیڈرز کو نقصانات کی شرح کے مطابق مختلف زمروں میں رکھا جاتا ہے اور زیادہ خسارے والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ 30 فیصد یا اس سے زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر لوڈشیڈنگ جاری رہے گی اور بجلی چوری یا مستقل نادہندگان کے معاملے میں رعایت نہیں دی جائے گی۔ مسئلہ یہ ہے کہ فیڈر سطح کی لوڈشیڈنگ سے بل باقاعدگی سے ادا کرنے والے صارفین بھی متاثر ہوتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اے پی ایم ایس سے کارروائی کا دائرہ فیڈر کے ہزاروں صارفین سے گھٹ کر کسی مخصوص ٹرانسفارمر سے جڑے تقریباً 150 سے 200 صارفین تک محدود کیا جا سکے گا۔
لیسکو ذرائع کے مطابق لاہور اور قصور میں پائلٹ کے لیے ضروری کام جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف سے اس منصوبے کے افتتاح کی توقع ہے۔ نظام میں میٹر سے چھیڑ چھاڑ کی خودکار نشاندہی اور متعلقہ حکام کو فوری اطلاع دینے جیسی صلاحیتیں بھی شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ منصوبہ ابھی پائلٹ اور مرحلہ وار نفاذ کے مرحلے میں ہے، اس لیے اس کے ملک گیر نتائج، بجلی چوری میں حقیقی کمی اور صارفین کے لیے لوڈشیڈنگ میں عملی بہتری کا اندازہ تنصیب اور آپریشنل ڈیٹا سامنے آنے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
