لاہور: پنجاب حکومت نے سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے وائس چانسلرز کے اختیارات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ پبلک سیکٹر میڈیکل یونیورسٹیز (دوسرا ترمیمی) آرڈیننس 2026 کے تحت وائس چانسلر کو یونیورسٹی کا چیف ایگزیکٹو اور اکیڈمک افسر قرار دیتے ہوئے متعلقہ افسران، اساتذہ، ملازمین، جزوی کالجوں اور ہسپتالوں پر انتظامی کنٹرول کی واضح ذمہ داری دی گئی ہے۔

آرڈیننس گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے آئین کے آرٹیکل 128(1) کے تحت جاری کیا اور اسے 20 اکتوبر کو پنجاب گزٹ کے غیر معمولی شمارے میں شائع کیا گیا۔ قانون فوری طور پر نافذ ہوا۔ اس کے دائرے میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی، فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی، راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور شامل ہیں۔

ترمیم کا مقصد انتظامی ذمہ داری اور فیصلہ سازی کی حدود کو زیادہ واضح کرنا بتایا جا رہا ہے۔ نئے متن کے مطابق وائس چانسلر متعلقہ قانون، قواعد اور ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا ذمہ دار ہوگا۔ اس تبدیلی سے یونیورسٹی اور اس سے منسلک تدریسی و طبی اداروں کے درمیان انتظامی اختیار کے بعض سابقہ ابہامات کم ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے، تاہم عملی اثر کا انحصار قواعد کے نفاذ اور ادارہ جاتی نگرانی پر ہوگا۔

رپورٹ میں طبی شعبے کے بعض نمائندوں نے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ محض انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی سے میڈیکل تعلیم یا صحت کی خدمات خودکار طور پر بہتر نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق مالی شفافیت، میرٹ پر تقرریاں، فیکلٹی کی ترقی، تحقیق، کلینیکل تربیت اور مریضوں کی نگہداشت جیسے پیمانے بھی اصلاحات کی کامیابی جانچنے کے لیے ضروری ہیں۔

سرکاری میڈیکل جامعات میں وائس چانسلر کے عہدے کے ساتھ نجی پریکٹس، مالی نگرانی اور خودمختاری جیسے معاملات پہلے بھی بحث کا موضوع رہے ہیں۔ زیادہ انتظامی اختیار کے ساتھ جواب دہی کے مؤثر نظام کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ یونیورسٹی کی اکیڈمک آزادی اور ہسپتالوں کی روزمرہ انتظامیہ کے درمیان توازن برقرار رہے۔

آرڈیننس نے قانونی اختیار کی ساخت تبدیل کی ہے، لیکن اس کے نتائج کا درست جائزہ تقرریوں، بجٹ، تدریسی معیار، ہسپتال انتظامیہ اور مریضوں کو ملنے والی خدمات میں آنے والی عملی تبدیلیوں کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ صوبائی حکومت اور جامعات کے لیے اگلا مرحلہ نئے اختیارات کو شفاف قواعد اور قابل پیمائش کارکردگی کے ساتھ نافذ کرنا ہوگا۔