لاہور: پنجاب میں لیول تھری پوسٹ گریجویٹ میڈیکل اور ڈینٹل پروگراموں میں داخلے کے لیے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیر اہتمام پوسٹ گریجویٹ انٹرنس ٹیسٹ (PGET) بیک وقت لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد اور ملتان میں منعقد کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 9,008 ڈاکٹروں نے شرکت کی۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ امتحان ایف سی پی ایس، ایم ڈی، ایم ایس اور ایم ڈی ایس سمیت متعلقہ پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلے کے لیے لازمی ہے۔ ٹیسٹ دو سوالیہ پرچوں پر مشتمل تھا، جو صبح 10 بجے شروع ہوا اور دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر ختم ہوا۔ دونوں پرچوں کے درمیان 30 منٹ کا وقفہ رکھا گیا تھا۔
امتحان میں شریک امیدواروں میں 4,579 خواتین اور 4,429 مرد ڈاکٹر شامل تھے۔ شہروں کے لحاظ سے سب سے زیادہ 4,107 امیدوار لاہور میں امتحان میں شریک ہوئے۔ ملتان میں 2,353، راولپنڈی میں 1,516 اور فیصل آباد میں 1,032 امیدواروں نے ٹیسٹ دیا۔ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے وحدت روڈ پر واقع امتحانی ہالز کو مرکز بنایا گیا، جبکہ دیگر تین شہروں میں متعلقہ میڈیکل یونیورسٹیوں میں امتحان منعقد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ PGET کا انتظام کیا ہے۔ اس نئے طریقہ کار نے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں داخلوں کے لیے پہلے استعمال ہونے والے جوائنٹ سنٹرلائزڈ ایڈمیشن ٹیسٹ کی جگہ لی ہے۔ اس تبدیلی کی عملی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پنجاب کے مختلف تدریسی اور تربیتی اداروں میں اعلیٰ طبی تعلیم کے خواہش مند ڈاکٹروں کے لیے داخلے کا بنیادی مرحلہ اب اسی امتحان سے منسلک ہے۔
یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مطابق ٹیسٹ کے نتائج اگلے ہفتے جاری ہونے کی توقع ہے۔ دستیاب رپورٹ میں کامیابی کے لیے درکار حتمی اسکور، پروگرام وار نشستوں کی تعداد یا میرٹ کی متوقع حد بیان نہیں کی گئی، اس لیے امیدواروں کی کامیابی یا مخصوص پروگرام میں داخلے کے بارے میں نتیجہ جاری ہونے سے پہلے کوئی حتمی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
9 ہزار سے زیادہ امیدواروں کی شرکت پنجاب میں پوسٹ گریجویٹ طبی تربیت کی طلب کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگلا اہم مرحلہ نتائج کا اجرا اور اس کے بعد متعلقہ پروگراموں کے لیے میرٹ اور داخلہ عمل ہوگا، جس کی تفصیلات یونیورسٹی اور صوبائی حکام کے باضابطہ اعلانات کے مطابق واضح ہوں گی۔

