لاہور: پنجاب اور چین کے سنکیانگ ایغور خود مختار خطے کی قیادت نے زراعت، آبپاشی اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دی نیشن کی 26 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی سنکیانگ علاقائی کمیٹی کے سیکریٹری چن شیاؤجیانگ سے ملاقات کی۔ اجلاس میں دونوں خطوں کے تجربے اور ٹیکنالوجی سے عملی فائدہ اٹھانے کے امکانات زیر بحث آئے۔

رپورٹ کے مطابق فریقین نے جدید فضائی گاڑیوں کے زرعی استعمال، پانی کی درست سطح بندی اور فصلوں کی ڈیجیٹل نگرانی کے نظام پر گفتگو کی۔ زرعی مشینری، پانی بچانے والی آبپاشی، لائیو اسٹاک کی ترقی اور آزمودہ چینی بیجوں کے استعمال کے امکانات بھی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ ان نکات کو تعاون کی سمت اور زیر غور اقدامات سمجھنا چاہیے؛ دستیاب رپورٹ میں کسی مخصوص ڈرون، بیج کی مقدار، مالی معاہدے یا منصوبے کی تکمیل کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مریم نواز نے کہا کہ پنجاب گندم، مکئی، گنا اور چاول کی ملکی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور صوبہ سنکیانگ کے کارپوریٹ فارمنگ تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے زراعت کے ساتھ صنعت، معدنیات اور نئی ٹیکنالوجی میں بھی تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی۔ ملاقات میں وفود کے تبادلے اور عوامی روابط مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

زرعی ٹیکنالوجی کو مقامی حالات میں اپنانے کے لیے زمین، پانی، موسم، کسان کی لاگت اور ضابطہ جاتی منظوری کی جانچ ضروری ہوگی۔ کسی بیج یا آبپاشی طریقے کی کامیابی ایک خطے سے دوسرے خطے میں خودکار طور پر منتقل نہیں ہوتی، اس لیے آزمائشی منصوبوں اور مقامی تحقیق کے نتائج اہم ہوں گے۔ خبر میں ایسے کسی پائلٹ منصوبے کے رقبے، ضلع یا آغاز کی تاریخ نہیں دی گئی۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت اعلیٰ سطحی ملاقات اور تعاون بڑھانے پر اتفاق ہے۔ عملی نتیجے کا اندازہ اس وقت ہوگا جب دونوں جانب سے تحریری منصوبے، ذمہ دار ادارے، سرمایہ کاری، ٹائم لائن اور قابلِ پیمائش اہداف سامنے آئیں گے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک