اسلام آباد: پاکستانی شہریوں کے لیے قطر کی ویزا آن ارائیول سہولت معطل ہونے اور Hayya پورٹل پر جمع کرائی گئی درخواستوں کے طویل عرصے تک زیر التوا رہنے کی متعدد شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اسے قطری حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ ویزا پابندی کی رسمی اطلاع نہیں ملی۔ اس لیے موجودہ صورتحال کو اسلام آباد کی سطح پر سرکاری طور پر اعلان شدہ مکمل ویزا بین قرار نہیں دیا گیا۔
Business Recorder نے 16 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ متعدد پاکستانی درخواست گزاروں نے ویزا آن ارائیول نہ ملنے اور Hayya پورٹل پر ویزا درخواستوں کے کئی ماہ سے فیصلہ نہ ہونے کی شکایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض متاثرہ افراد نے دفتر خارجہ سے بھی رابطہ کیا، لیکن انہیں معاملے کے حل یا واضح ٹائم لائن سے متعلق حتمی جواب نہیں ملا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال ان پاکستانی شہریوں کے لیے بھی عملی مشکلات پیدا کر رہی ہے جو فن لینڈ کے رہائشی اجازت ناموں کے لیے دوحہ میں VFS Global مرکز پر ذاتی شناخت اور بایومیٹرک تصدیق کرانے کے پابند ہیں۔ قطر میں داخلے میں رکاوٹ کی صورت میں ایسے درخواست گزار ضروری بایومیٹرک مرحلہ مکمل نہیں کر پاتے۔
دفتر خارجہ کے ذرائع نے Business Recorder کو بتایا کہ پاکستان کو قطر کی طرف سے کوئی رسمی نوٹیفکیشن موصول نہیں ہوا، اس لیے رپورٹس کو فی الحال باضابطہ طور پر اعلان کردہ پابندی نہیں کہا جا سکتا۔ سینئر حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ معاملہ قطری حکام کے ساتھ سفارتی ذرائع سے اٹھایا جائے گا تاکہ پابندیوں یا ویزا پراسیسنگ میں ممکنہ عارضی تبدیلیوں کی نوعیت واضح ہو سکے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے 10 ستمبر کی ہفتہ وار بریفنگ میں بھی پاکستانی شہریوں پر باقاعدہ ویزا بین کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ہر ملک اپنے قومی مفاد کے مطابق ویزا پالیسی طے کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان اور قطر کے تعلقات اور قطر میں موجود پاکستانی کمیونٹی کا بھی حوالہ دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دوحہ سفارت خانے اور اسلام آباد میں قطری سفارتی مشن سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا مگر خبر فائل ہونے تک جواب موصول نہیں ہوا۔
قطر کی سرکاری وزٹ گائیڈ عام طور پر مختلف قومیتوں کے لیے ویزا، ویزا آن ارائیول اور Hayya A3 انٹری ویزا کے مختلف راستے بیان کرتی ہے، مگر کسی مخصوص پاکستانی مسافر کے لیے موجودہ اہلیت سفر سے پہلے سرکاری قطری ذرائع یا ایئرلائن سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔ موجودہ خبر کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عملی پابندیوں کی شکایات موجود ہیں، جبکہ پاکستان کو ابھی کسی باقاعدہ قطری نوٹیفکیشن کی تصدیق نہیں ہوئی۔
