کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کی تحصیل گلستان میں مسلح افراد کے ہاتھوں ایک شخص کے اغوا اور اس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ حکام کے مطابق واقعہ اتوار کو پیش آیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغوی کی بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی تلاش شروع کردی ہے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے حیدر نامی شخص کو اغوا کیا۔ مقامی باشندوں نے اغوا کی کوشش پر مزاحمت کی جس کے دوران ان کا مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حکام نے بتایا کہ اس فائرنگ میں عبدالولی اور حنیف اللہ نامی دو افراد جان سے گئے۔

فائرنگ کے بعد مسلح افراد مغوی حیدر کو اپنے ساتھ لے کر نامعلوم مقام کی جانب فرار ہوگئے۔ دستیاب سرکاری معلومات میں حملہ آوروں کی شناخت، تعداد یا اغوا کے محرک کے بارے میں کوئی حتمی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح کسی گروہ کی جانب سے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کی مصدقہ اطلاع بھی سامنے نہیں آئی، اس لیے اس مرحلے پر واقعے کو کسی مخصوص تنظیم یا مقصد سے منسلک کرنا درست نہیں ہوگا۔

پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد مغوی شخص کو بحفاظت بازیاب کرانا اور فائرنگ و اغوا میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک یہ واضح نہیں کہ ملزمان نے حیدر کو پہلے سے طے شدہ ہدف کے طور پر اغوا کیا یا واقعہ کسی مقامی تنازع یا دوسرے سبب سے منسلک تھا۔

قلعہ عبداللہ افغانستان کی سرحد سے متصل بلوچستان کا ضلع ہے، جہاں دشوار گزار جغرافیہ اور سرحدی آمدورفت کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز درپیش رہتے ہیں۔ تاہم ہر مقامی فائرنگ یا اغوا کے واقعے کو وسیع تر عسکریت پسندی سے جوڑنے کے لیے الگ شواہد درکار ہوتے ہیں، اور اس واقعے کے بارے میں حکام نے ایسی کوئی حتمی نسبت بیان نہیں کی۔

واقعے میں دو افراد کی ہلاکت اور ایک شخص کے اغوا کے بعد مقامی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔ پولیس کی تفتیش، جائے وقوع سے شواہد اور گرفتاریاں ہونے کی صورت میں حملہ آوروں کی شناخت اور واقعے کے پس منظر کے بارے میں مزید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔ فی الحال تصدیق شدہ معلومات یہی ہیں کہ دو افراد فائرنگ میں جاں بحق ہوئے، ایک شخص کو مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے اور سکیورٹی ادارے اس کی بازیابی کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔