ملتان: پنجاب کے ضلع ملتان میں شیر شاہ ریلوے اسٹیشن کے قریب منگل 13 اکتوبر کو پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی بوگیاں پٹری سے اترنے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا اور متعدد مسافر زخمی ہوگئے۔ وزیر ریلوے حنیف عباسی نے چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی، تاہم ریلوے کے ایک ترجمان نے اس سے قبل پانچ ہلاکتوں کا ذکر کیا تھا۔ اس فرق کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کو متعلقہ حکام کی الگ الگ اطلاعات کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

ڈان کے مطابق پاکستان ریلوے کی جاری کردہ فہرست میں 41 زخمی افراد کا اندراج تھا۔ ان میں سے تین کو اسپتال سے فارغ کیا گیا جبکہ 38 کو ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں کم از کم 13 کم عمر افراد بھی شامل تھے۔ حادثے کے بعد امدادی کارکنوں اور مقامی انتظامیہ نے متاثرہ مسافروں کو طبی امداد اور متبادل سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کارروائی کی۔

وزیر ریلوے حنیف عباسی نے وفاقی حکومت کے انسپکٹر آف ریلویز کو واقعے کی انکوائری کا ذمہ دار مقرر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی وجہ تحقیقات کے بعد سامنے آئے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ حادثے کی حتمی تکنیکی وجہ کا سرکاری طور پر تعین اس مرحلے پر نہیں ہوا، اس لیے کسی مخصوص خرابی کو ثابت شدہ سبب قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

ٹرین کے ڈرائیور رضوان عباس نے ڈان کو بتایا کہ گاڑی تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی اور ان کے مطابق سگنل واضح تھا۔ انہوں نے کہا کہ شیر شاہ کے قریب اچانک جھٹکا محسوس ہونے پر بریک لگائی اور ٹرین روکنے کے بعد دیکھا کہ مسافر بوگیاں پٹری سے اتر چکی تھیں۔ یہ ڈرائیور کا بیان ہے، انکوائری کی حتمی رپورٹ نہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق متاثرہ ٹرین کے پانچ سو سے زیادہ مسافروں کے لیے متبادل ٹرین روانہ کی گئی جبکہ سڑک کے ذریعے سفر جاری رکھنے والوں کے لیے بسوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ اہم ریلوے اسٹیشنوں پر معلوماتی اور امدادی ڈیسک قائم کیے گئے اور جہاں ضروری تھا ٹکٹ کی رقم واپس کرنے کے انتظامات کی ہدایت دی گئی۔ ریلوے کے مطابق لودھراں اور جہانیاں کے راستوں پر ٹرین آپریشن بحال کردیا گیا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس ظاہر کیا اور زخمیوں کے علاج و امداد پر زور دیا۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ ریلوے کے پرانے ڈبوں، انجنوں اور مال بردار گاڑیوں کی حالت بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں مختلف مقامات پر پیش آنے والے ریلوے حادثات نے ٹریک اور گاڑیوں کی دیکھ بھال سے متعلق سوالات کو مزید نمایاں کیا ہے، تاہم اس حادثے کی ذمہ داری انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی متعین ہوسکے گی۔