واشنگٹن: روس اور یوکرین نے جنوبی یوکرین کے روسی کنٹرول والے شہر اولیشکی میں انسانی امداد پہنچانے اور شہریوں کے انخلا کے لیے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق معاہدے کے تحت دونوں فریق مخصوص مدت کے لیے شہر میں فوجی کارروائیاں روکیں گے تاکہ امدادی ٹیمیں داخل ہو سکیں اور شہریوں کے لیے محفوظ راستہ تیار کیا جا سکے۔

امریکی انتظامیہ نے کہا کہ اس انسانی انتظام میں امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق دونوں ممالک نے اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر رضامندی ظاہر کی تاکہ انسانی امداد داخل ہو اور ایک متعین محفوظ گزرگاہ کے ذریعے شہری انخلا کی تیاری کی جا سکے۔

روسی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیراسیموف کے مطابق روسی افواج مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بجے سے فائر روکیں گی تاکہ انسانی کارروائی ممکن بنائی جا سکے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے جنگ بندی کے آغاز کے لیے اگلے جمعرات کا حوالہ دیا۔ دستیاب رپورٹنگ میں ان اوقات کے فرق کی فوری وضاحت نہیں کی گئی، اس لیے عملی آغاز کے وقت کی حتمی تصدیق متعلقہ فریقوں کے آپریشنل اعلانات سے ہوگی۔

یوکرین کے چیف مذاکرات کار ڈیوڈ اراخامیا نے کہا کہ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد انسانی آپریشن شروع کیا جائے گا۔ اولیشکی کے رہائشی روس کے 2022 کے قبضے کے بعد خوراک اور بنیادی ضروریات کی بگڑتی صورتحال کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ عارضی جنگ بندی کا بنیادی مقصد وسیع تر سیاسی یا فوجی تصفیہ نہیں بلکہ محدود انسانی رسائی اور شہریوں کا انخلا بتایا گیا ہے۔

یہ پیش رفت روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کا معاہدہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے دوسرے محاذوں پر لڑائی خود بخود رکتی ہے۔ انسانی بنیادوں پر محدود جنگ بندیاں ماضی میں بھی مخصوص علاقوں یا انخلا کے راستوں کے لیے استعمال ہوئی ہیں، مگر ان کی کامیابی زمینی سطح پر دونوں جانب کے فوجی یونٹس کی پابندی، رابطہ کاری اور محفوظ رسائی پر منحصر ہوتی ہے۔

اولیشکی میں معاہدے کے نفاذ، امداد کی مقدار، انخلا کیے جانے والے شہریوں کی تعداد اور جنگ بندی کی مدت سے متعلق مزید تفصیلات آپریشن شروع ہونے کے بعد واضح ہوں گی۔