کیف: یوکرین کے اوڈیسا خطے میں یوکرین اور مالدووا کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ پر روسی ڈرون حملے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے، جبکہ دارالحکومت کیف پر الگ ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوئے۔ رائٹرز کے مطابق حملوں نے شہری اور سرحدی انفراسٹرکچر کو متاثر کیا اور متعلقہ گزرگاہ پر ٹریفک روک دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اسٹاروکوزاچے سرحدی کراسنگ اوڈیسا خطے میں روزانہ آمدورفت اور زمینی رابطے کے لیے اہم ہے۔ مالدووا کے حکام نے حملے کے بعد وہاں ٹریفک معطل ہونے کی تصدیق کی۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روس نے حالیہ عرصے میں متعدد سرحدی گزرگاہوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں مالدووا سے ملنے والی چار اور نیٹو رکن رومانیہ کی سمت ایک گزرگاہ شامل ہے۔ یہ اعداد اور حملوں کی نسبت یوکرینی حکام کے بیانات پر مبنی ہے۔
کیف میں الگ حملے کے نتیجے میں رہائشی علاقوں کو بھی نقصان پہنچا اور حکام نے ایک ہلاکت اور 14 زخمیوں کی اطلاع دی۔ روس اور یوکرین ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے کے ڈرون حملوں میں اضافہ کر چکے ہیں، جن میں توانائی، لاجسٹکس، فوجی اور دیگر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ روس عمومی طور پر کہتا ہے کہ اس کے اہداف فوجی یا لاجسٹک نوعیت کے ہوتے ہیں، جبکہ یوکرین شہری تنصیبات اور آبادی کو پہنچنے والے نقصان کی نشاندہی کرتا ہے۔
مالدووا کی صدر مایا ساندو نے سرحدی حملے کی مذمت کی۔ رائٹرز کے مطابق مالدووا میں روسی ڈرونز کی فضائی حدود میں دراندازی کے واقعات پر بھی تشویش بڑھی ہے۔ یوکرین کی مغربی سرحدیں جنگ کے دوران تجارت، امداد، مسافروں اور برآمدات کے لیے خاص اہمیت اختیار کر چکی ہیں، بالخصوص اس وقت جب بحیرہ اسود کے راستوں پر بھی مسلسل سکیورٹی خطرات موجود ہیں۔
یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی نے تازہ حملوں کے بعد روس پر مزید بین الاقوامی دباؤ کی اپیل دہرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحدی اور شہری انفراسٹرکچر پر حملے جنگ کے اثرات کو یوکرین کی حدود سے آگے پڑوسی ممالک کی سلامتی اور تجارت تک پھیلا سکتے ہیں۔ یہ یوکرینی حکومت کا مؤقف ہے، جبکہ جنگ کے سفارتی حل پر فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
تازہ حملوں کی اہمیت صرف جانی نقصان تک محدود نہیں؛ سرحدی گزرگاہوں کو بار بار نشانہ بنائے جانے سے یوکرین کے زمینی تجارتی اور رسدی راستوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ مالدووا اور رومانیہ سے ملنے والے راستے یوکرین کو یورپی منڈیوں اور امدادی نیٹ ورکس سے جوڑتے ہیں، اس لیے ان کی سلامتی جنگ کے وسیع تر علاقائی اثرات کا اہم پہلو بن گئی ہے۔




