اسلام آباد: روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف پیر 12 اکتوبر کو چار روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق ان کی آمد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر ہوئی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ روس کے کسی وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات اور باہمی تعاون سے متعلق امور پر اعلیٰ سطحی ملاقاتیں متوقع ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق روسی وزیر داخلہ کی اسلام آباد آمد پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔ وزارت داخلہ کے بیان میں بتایا گیا کہ مہمان وزیر اپنے قیام کے دوران پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں کی مکمل تفصیلی فہرست یا ممکنہ معاہدوں کی حتمی شرائط ابتدائی اعلان میں فراہم نہیں کی گئیں۔

وزارت داخلہ نے دورے کو پاکستان اور روس کے باہمی روابط میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق گفتگو میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور تعاون کے مواقع پر توجہ دی جائے گی۔ تاہم کسی نئے معاہدے پر دستخط، مشترکہ منصوبے کے آغاز یا مالی وعدے کی تکمیل کا اعلان اس مرحلے پر نہیں کیا گیا۔ اس لیے دورے کو سفارتی رابطے اور طے شدہ ملاقاتوں کی پیش رفت کے طور پر دیکھنا مناسب ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان مختلف سطحوں پر سرکاری روابط موجود رہے ہیں، لیکن وزارت داخلہ کے شعبے میں اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی دورے کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ داخلی امور سے متعلق وزارتوں کے رابطوں میں ادارہ جاتی تعاون اور مشترکہ دلچسپی کے معاملات زیر بحث آسکتے ہیں، اگرچہ موجودہ دورے کے لیے کسی مخصوص عملی منصوبے کی سرکاری تصدیق دستیاب نہیں۔

وزارت داخلہ کے مطابق روسی وزیر چار روز پاکستان میں رہیں گے۔ اس دوران ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج اور کسی مشترکہ اعلامیے کی تفصیلات متعلقہ حکام کے بعد کے اعلانات سے واضح ہوں گی۔ اس وقت دستیاب مصدقہ معلومات دورے کی آمد، مدت، دعوت، استقبال اور مجوزہ اعلیٰ سطحی بات چیت تک محدود ہیں۔

اس دورے سے دونوں ممالک کو براہ راست رابطے بڑھانے کا موقع ملا ہے، تاہم سفارتی سرگرمی اور کسی قابل عمل سمجھوتے میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں سرکاری بیانات ہی واضح کریں گے کہ ملاقاتوں میں کن موضوعات پر اتفاق ہوا اور آیا کسی عملی تعاون کے لیے مزید اقدامات طے پائے یا نہیں۔