اسلام آباد: روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولکولتسیف پیر 12 اکتوبر 2026 کو چار روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق یہ کسی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ روسی مہمان وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر آئے ہیں اور اپنے قیام کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔
وزارت داخلہ کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اسلام آباد آمد پر روسی وزیر کا استقبال کیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے سے متعلق اہم بات چیت متوقع ہے۔ تاہم بیان میں ملاقاتوں کا حتمی شیڈول یا کسی نئے معاہدے کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات گزشتہ چند برسوں میں روایتی سفارتی رابطوں سے آگے بڑھ کر اقتصادی اور توانائی کے شعبوں تک پھیلے ہیں۔ دونوں ملک شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ہیں اور علاقائی سطح پر رابطوں کے کئی مواقع رکھتے ہیں۔ روسی وزیر داخلہ کا پاکستان آنا دوطرفہ رابطوں میں داخلی سلامتی اور متعلقہ ادارہ جاتی تعاون کے موضوعات پر اعلیٰ سطح کی بات چیت کا موقع فراہم کرتا ہے۔
رواں سال جنوری میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو باہمی فائدے پر مبنی قرار دیا تھا۔ ان کے بیان کو پاکستان میں روسی سفارت خانے نے بھی اجاگر کیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ سال جولائی میں روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے اقتصادی اور توانائی کے معاملات میں پاکستان کی اہمیت کا ذکر کیا تھا۔ یہ سابقہ بیانات موجودہ دورے کا سفارتی پس منظر واضح کرتے ہیں، لیکن انہیں کسی نئے فیصلے یا طے شدہ معاہدے کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
پاکستان نے 2023 میں روسی خام تیل کی درآمد شروع کی تھی، جسے دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں ایک نمایاں پیش رفت سمجھا گیا۔ موجودہ دورہ وزارت داخلہ کی سطح پر ہورہا ہے، اس لیے اسے توانائی سے متعلق کسی نئے معاہدے کا اعلان قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ حکام نے ابھی تک صرف مجوزہ ملاقاتوں اور تعاون کے عمومی ایجنڈے کی تصدیق کی ہے۔
اس خبر کی بنیادی پیش رفت روسی وزیر داخلہ کی پاکستان آمد اور چار روزہ دورے کا آغاز ہے۔ دورے کے نتائج، مشترکہ اعلانات اور ممکنہ انتظامی تعاون کی نوعیت ان ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے ہی واضح ہوگی۔
