ریاض/ویانا: سعودی عرب نے مدینہ کے علاقے میں تقریباً 11 کروڑ ٹن ایسے معدنی خام کی نشاندہی کا اعلان کیا ہے جس میں نایاب زمینی عناصر کے ساتھ یورینیم کی موجودگی بھی پائی گئی ہے۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے یہ اعلان 14 ستمبر 2026 کو ویانا میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی جنرل کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا، جبکہ سعودی سرکاری ٹیلی ویژن نے اس پیش رفت کی رپورٹ نشر کی۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ وسائل مدینہ صوبے میں جبل صاید منصوبے کے تحت ارضیاتی سروے، ڈرلنگ اور تحقیقی کام کے نتیجے میں سامنے آئے۔ مختلف رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ خام مواد میں بالخصوص ہیوی ریئر ارتھ عناصر کے ارتکاز کے ساتھ یورینیم کی حوصلہ افزا مقدار کی نشاندہی ہوئی ہے۔ سعودی حکام نے اس دریافت کو معدنی وسائل کی تلاش اور توانائی کے وسیع تر منصوبوں کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
اہم وضاحت یہ ہے کہ 11 کروڑ ٹن کا عدد خالص یورینیم کی مقدار نہیں۔ یہ مجموعی معدنی خام یا زمین سے شناخت کیے گئے مواد کا تخمینہ ہے جس میں یورینیم اور نایاب زمینی عناصر موجود ہیں۔ فی الحال یورینیم کی درست گریڈ، قابل بازیافت مقدار، نکالنے کی لاگت یا تجارتی پیداوار کے لیے حتمی اقتصادی فزیبلٹی کی مکمل تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ اس لیے اس دریافت کو فوری طور پر 11 کروڑ ٹن یورینیم کے ذخیرے سے تعبیر کرنا درست نہیں ہوگا۔
سعودی عرب حالیہ برسوں میں تیل سے ہٹ کر کان کنی، معدنیات، جدید صنعت اور شہری جوہری توانائی سمیت متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے۔ نایاب زمینی عناصر الیکٹرونکس، توانائی کے جدید نظام، برقی گاڑیوں، دفاعی صنعت اور متعدد ہائی ٹیک مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں، جبکہ یورینیم جوہری ایندھن کے لیے بنیادی خام مال ہے۔ تاہم کسی معدنی دریافت کو قابلِ استعمال ذخیرے میں تبدیل کرنے کے لیے مزید ارضیاتی، تکنیکی، ماحولیاتی اور اقتصادی جائزے ضروری ہوتے ہیں۔
اعلان کا مقام بھی اہم ہے کیونکہ سعودی وزیر نے یہ بات آئی اے ای اے کی جنرل کانفرنس میں کہی، جہاں رکن ممالک جوہری توانائی، سیف گارڈز، سلامتی اور پرامن جوہری تعاون سے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہیں۔ سعودی عرب اپنے شہری جوہری توانائی پروگرام کو آگے بڑھانے کی خواہش ظاہر کرتا رہا ہے اور اسی کے ساتھ مقامی یورینیم وسائل کی تلاش بھی کر رہا ہے۔
تازہ اعلان سعودی عرب کے لیے ایک اہم معدنیاتی پیش رفت ہے، لیکن ذخیرے کی حتمی تجارتی قدر اور قابل بازیافت یورینیم کی مقدار کا تعین مزید تکنیکی معلومات سے ہی ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ بنیادی حقیقت یہی ہے کہ جبل صاید کے علاقے میں تقریباً 110 ملین ٹن معدنی خام کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں نایاب زمینی عناصر اور یورینیم کے ارتکاز رپورٹ ہوئے ہیں۔

