کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف بڑھاتے ہوئے بینکوں اور دیگر شریک مالیاتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسانوں، مویشی پالنے والے گھرانوں اور زرعی کاروباروں تک رسمی قرضوں کی رسائی وسیع کریں۔ مرکزی بینک نے زرعی شعبے کی پیداواری ضروریات اور مالی شمولیت کو نئی تقسیم کے اہم مقاصد میں شامل کیا ہے۔

زرعی کریڈٹ ایڈوائزری کمیٹی کے فریم ورک کے تحت مقرر اہداف میں روایتی کمرشل بینکوں کے ساتھ اسلامی بینک، مائیکرو فنانس ادارے اور دیہی قرض دہندگان شامل ہوتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ زرعی قرض صرف بڑے زمین داروں یا روایتی فصلوں تک محدود نہ رہے بلکہ چھوٹے اور پسماندہ کسان، لائیو اسٹاک، باغبانی، مشینی خدمات اور زرعی ویلیو چین کے دوسرے حصے بھی فنانسنگ حاصل کر سکیں۔

مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں سے کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل ذرائع، متبادل کریڈٹ اسکورنگ اور آسان دستاویزی عمل کے ذریعے ایسے کسانوں تک پہنچیں جو رسمی بینکاری نظام سے باہر یا محدود طور پر منسلک ہیں۔ زرعی قرضوں میں موسمی نوعیت، فصل کے دورانیے، موسمیاتی خطرات اور منڈی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، اس لیے بینکوں کو مصنوعات اور واپسی کے شیڈول مقامی حالات کے مطابق بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

زرعی شعبہ پاکستان کی روزگار، خوراک اور برآمدی معیشت میں مرکزی کردار رکھتا ہے، لیکن چھوٹے کسانوں کے لیے سستے اور بروقت قرض تک رسائی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ غیر رسمی قرض دہندگان سے مہنگی فنانسنگ کسان کی پیداواری لاگت بڑھا سکتی ہے، جبکہ بینک قرض کے لیے ضمانت، ریکارڈ اور دستاویزات کی شرائط بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا ہدف انہی مسائل کو رسمی مالیاتی نظام کے ذریعے کم کرنے کی کوشش ہے۔

سالانہ قرض ہدف کسی سرکاری سبسڈی یا ہر درخواست گزار کے لیے قرض کی ضمانت نہیں ہوتا۔ ہر بینک اپنی کریڈٹ پالیسی، خطرے کی جانچ اور متعلقہ ضوابط کے تحت قرض منظور کرتا ہے۔ اسی طرح ہدف پورا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ رقم تمام علاقوں، فصلوں یا کسان طبقات میں یکساں تقسیم ہوئی؛ اس کے لیے صوبائی اور قرض لینے والے طبقے کے لحاظ سے اصل تقسیم کا جائزہ ضروری ہوگا۔

اسٹیٹ بینک عام طور پر زرعی قرضوں کی پیش رفت کی نگرانی اور مالیاتی اداروں کے ساتھ باقاعدہ جائزہ اجلاس کرتا ہے۔ مالی سال کے دوران اصل تقسیم کے اعداد و شمار سے واضح ہوگا کہ نیا ہدف کس حد تک حاصل ہوا اور چھوٹے کسانوں کی مالی شمولیت میں عملی بہتری آئی یا نہیں۔