سپریم کورٹ نے ایک مقدمے میں قرار دیا ہے کہ اگر دستیاب مواد کی بنیاد پر ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کے بارے میں معقول شک پیدا ہو تو اسے ضمانت سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ ڈان کی 21 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے ضمانت سے متعلق اصولوں کی وضاحت کرتے ہوئے پراسیکیوشن کی ذمہ داری پر بھی زور دیا کہ وہ متعلقہ حقائق بروقت اور شفاف انداز میں عدالت کے سامنے رکھے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے سماعت کے دوران اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ درخواست گزار کو پہلے ضمانت ملنے کے باوجود پراسیکیوشن کے طرز عمل کے باعث جیل میں رہنا پڑا۔ عدالت کے مطابق اگر ضمانت کے حکم سے پہلے کسی متعلقہ ریکارڈ یا مقدمے میں کوئی نئی شمولیت ہوئی تھی تو اسے بروقت سپریم کورٹ کے علم میں لایا جانا چاہیے تھا، نہ کہ معلومات کو غیر واضح رکھا جاتا۔

عدالت نے ضمانت کے مرحلے اور مقدمے کے حتمی ٹرائل کے درمیان فرق کو برقرار رکھا۔ ضمانت کا فیصلہ جرم ثابت یا رد کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوتا؛ اس مرحلے پر عدالت یہ دیکھتی ہے کہ ملزم کو حراست میں رکھنے کے لیے قانون کے مطابق کافی ابتدائی بنیاد موجود ہے یا معاملہ مزید تحقیق اور شک کا متقاضی ہے۔

پاکستانی فوجداری قانون میں ضمانت کے معاملات میں 'مزید تحقیق' اور معقول شک کا اصول اہم حیثیت رکھتا ہے۔ اگر استغاثہ کا مواد واضح طور پر ملزم کو جرم سے نہ جوڑتا ہو، یا ایسے سوالات موجود ہوں جن کا فیصلہ مکمل شہادت کے بعد ہونا ہو، تو عدالتیں غیر ضروری قبل از ٹرائل حراست سے بچنے کے لیے ضمانت دے سکتی ہیں۔ تاہم ہر مقدمہ اپنے حقائق، الزام کی نوعیت اور دستیاب شواہد کے مطابق جانچا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کی تازہ آبزرویشن پراسیکیوشن اداروں کے لیے بھی یاد دہانی ہے کہ ضمانت جیسے بنیادی قانونی حق سے متعلق کارروائی میں مکمل ریکارڈ اور درست معلومات پیش کرنا ضروری ہے۔ عدالت کی تنقید کسی پراسیکیوٹر کے خلاف الگ سزا یا تادیبی کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ زیر سماعت معاملے میں سرکاری طرز عمل پر عدالتی تشویش کا اظہار ہے۔