اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے 39,704 کمپنیوں کو مسلسل چار سال تک سالانہ ریٹرنز اور یا مطلوبہ مالیاتی بیانات جمع نہ کرانے پر پہلی مرتبہ باقاعدہ طور پر 'ان ایکٹو بائی رجسٹرار' قرار دے دیا ہے۔ یہ اقدام کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت کارپوریٹ رجسٹری کو زیادہ درست، قابل اعتماد اور فعال کاروباری اداروں کی حقیقی صورت حال کے قریب لانے کی کوشش کا حصہ ہے۔
ایس ای سی پی کے مطابق 30 ستمبر 2026 تک پاکستان میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد 317,002 تھی۔ مالی سال 2025-26 کے دوران 43,559 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ کمپنی کے نام کی ریزرویشن اور انکارپوریشن کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو چکا ہے اور نئی کمپنیوں کی 99.9 فیصد رجسٹریشن آن لائن ہوتی ہے۔
غیر فعال قرار دی جانے والی کمپنیوں کی حیثیت ایس ای سی پی کے نظام میں ظاہر ہوگی اور بینکوں سمیت متعلقہ فریق بھی اسے دیکھ سکیں گے۔ جب تک یہ ادارے اپنے زیر التوا قانونی دستاویزات جمع کرا کے فعال حیثیت بحال نہیں کراتے، وہ نئے بینک اکاؤنٹس کھولنے، بعض مالی خدمات تک رسائی حاصل کرنے یا اپنے ڈائریکٹرز میں تبدیلی رجسٹر کرانے سے قاصر رہیں گے۔ اس طرح غیر فعالیت کا اندراج محض رجسٹری میں ایک لیبل نہیں بلکہ کمپنی کی عملی مالی اور کارپوریٹ سرگرمیوں پر اثر ڈالنے والا انتظامی قدم ہے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر احمد سدھو کے مطابق صاف اور قابل اعتبار کارپوریٹ رجسٹری کاروباری شعبے میں اعتماد کی بنیاد ہے۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ طویل عرصے سے قانونی فائلنگ نہ کرنے والی کمپنیوں کی واضح شناخت سے غیر فعال اداروں کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنے اور مالیاتی نظام کی سالمیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ متعلقہ کمپنیوں کو واجب الادا فائلنگ مکمل کر کے دوبارہ ضابطہ کار کے مطابق فعال ہونے کا راستہ بھی دیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق غیر فعال کمپنیوں میں 13,927 لاہور، 13,859 اسلام آباد، 4,868 کراچی، 2,031 پشاور، 1,861 ملتان، 1,384 فیصل آباد، 1,102 گلگت، 436 کوئٹہ اور 236 سکھر سے متعلق ہیں۔ سالانہ ریٹرنز اور جہاں قانون لازم کرے مالیاتی بیانات جمع کرانا کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت رجسٹرڈ کمپنیوں کی قانونی ذمہ داری ہے۔
یہ کارروائی کارپوریٹ رجسٹری کی صفائی کے ساتھ بینکوں، سرمایہ کاروں اور دیگر کاروباری فریقوں کے لیے کمپنی کی تعمیلی حیثیت زیادہ واضح بنانے کی کوشش ہے۔ تاہم غیر فعال قرار دیا جانا کمپنی کی تحلیل یا کسی جرم میں سزا کے مترادف نہیں؛ متعلقہ ادارہ مطلوبہ دستاویزات جمع کرا کے اور قانونی تقاضے پورے کر کے اپنی فعال حیثیت بحال کرا سکتا ہے۔
