اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ان کمپنیوں کو، جن کا مالی سال 30 جون 2026 کو ختم ہوا، ہدایت کی ہے کہ وہ 28 اکتوبر 2026 تک اپنی سالانہ جنرل میٹنگ منعقد کریں اور متعلقہ سالانہ ریٹرن اور الٹیمیٹ بینیفیشل اونرشپ یعنی حقیقی فائدہ مند مالکان سے متعلق قانونی تقاضے مکمل کریں۔

ایس ای سی پی کے 6 اکتوبر کے سرکاری اعلامیے کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کے لیے مالی سال کے اختتام کے 120 دن کے اندر اے جی ایم منعقد کرنا ضروری ہے۔ کمیشن نے کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ آخری تاریخ کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے ریکارڈ اور ضروری دستاویزات پہلے سے تیار کریں تاکہ قانونی فائلنگ بروقت مکمل ہوسکے۔

اے جی ایم کے بعد اگر کمپنی کی تفصیلات میں گزشتہ سالانہ ریٹرن کے مقابلے میں تبدیلی ہوئی ہو تو فارم اے جمع کرانا ہوگا، جبکہ تفصیلات میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں فارم 24 درکار ہوگا۔ ایس ای سی پی نے واضح کیا ہے کہ سنگل ممبر کمپنیاں اور وہ نجی کمپنیاں جن کا ادا شدہ سرمایہ 30 لاکھ روپے سے زیادہ نہیں، بعض شرائط کے تحت سالانہ ریٹرن جمع کرانے سے مستثنیٰ ہوسکتی ہیں، بشرطیکہ گزشتہ ریٹرن میں درج معلومات میں کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہو۔

کمپنیوں کو حقیقی فائدہ مند مالکان سے متعلق سالانہ تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ ان میں ضروری نوٹس جاری کرنا، اعلانات اور تازہ معلومات حاصل کرنا، یو بی او رجسٹر برقرار رکھنا اور سالانہ ریٹرن کے ساتھ فارم 19 رجسٹرار کے پاس جمع کرانا شامل ہے۔ جہاں سالانہ ریٹرن جمع کرانا لازم نہ ہو، وہاں فارم 19 کیلنڈر سال کے اختتام کے 30 دن کے اندر جمع کرانے کی شرط لاگو ہوتی ہے۔

یہ ہدایات کارپوریٹ ریکارڈ کو تازہ رکھنے اور ملکیتی ڈھانچے میں شفافیت کے قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کا حصہ ہیں۔ کمپنیوں کے لیے مخصوص ذمہ داری ان کی قانونی حیثیت، سرمائے اور ریکارڈ میں تبدیلی کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے ایس ای سی پی نے متعلقہ اداروں کو اپنے ریکارڈ کا پیشگی جائزہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

یہ رپورٹ ایس ای سی پی کے 6 اکتوبر 2026 کے سرکاری پریس ریلیز اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ آخری تاریخ اور فارم سے متعلق تفصیلات سرکاری ریگولیٹری اعلامیے کے مطابق بیان کی گئی ہیں۔