اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، ایس ای سی پی، نے 28 ہزار 761 کمپنیوں کو ان افراد کی تفصیلات مبینہ طور پر جمع نہ کرانے پر شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں جو بالآخر ان اداروں کے مالک یا ان پر مؤثر کنٹرول رکھتے ہیں۔ ریگولیٹر کے 3 ستمبر 2026 کے اعلامیے کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کو الٹیمیٹ بینیفیشل اونر، یو بی او، کی معلومات فارم 19 کے ذریعے فراہم کرنے کے لیے 30 دن دیے گئے ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق ہر رجسٹرڈ کمپنی پر لازم ہے کہ وہ اپنے حقیقی فائدہ مند مالک کی شناخت کرے اور مقررہ فارم میں رپورٹ کرے۔ یو بی او سے مراد وہ حقیقی فرد ہے جو براہِ راست یا کسی دوسری کمپنی، ٹرسٹ یا انتظام کے ذریعے بالآخر ملکیت یا کنٹرول رکھتا ہو۔ اس میں کم از کم 25 فیصد حصص یا ووٹنگ حقوق رکھنے والا شخص شامل ہوسکتا ہے، جبکہ حصص کی حد پوری نہ ہونے کے باوجود دوسرے ذرائع سے مؤثر کنٹرول رکھنے والا فرد بھی اس تعریف میں آسکتا ہے۔

یہ تقاضا کمپنیز ایکٹ 2017 کی دفعہ 123 اے اور کمپنیز ریگولیشنز 2024 کے ضابطہ 48(5) کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ متعلقہ کمپنیوں کو فارم 19 کے ساتھ اس کی مصدقہ نقل بطور ثبوت جمع کرانے کا کہا گیا ہے۔ کمپنی کو صرف اندرونی ریکارڈ رکھنا کافی نہیں؛ ریگولیٹر کے مقررہ طریقۂ کار کے مطابق معلومات اور تعمیل کا ثبوت بھی فراہم کرنا ہوتا ہے۔

نوٹسز کمپنیوں کے ای زی فائل اکاؤنٹس میں ’’نوٹس‘‘ ٹیب کے ذریعے الیکٹرانک طور پر بھیجے گئے۔ ایس ای سی پی نے چیف ایگزیکٹوز اور مجاز نمائندوں کو ان کے رجسٹرڈ ای میل پتوں اور موبائل نمبروں پر ای میل اور ایس ایم ایس سے بھی اطلاع دی۔ اس لیے متاثرہ کمپنیوں کو اپنے ای زی فائل اکاؤنٹ اور رجسٹرڈ رابطہ معلومات دیکھ کر متعلقہ نوٹس، آخری تاریخ اور مطلوبہ دستاویزات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

شوکاز نوٹس کسی کمپنی کے خلاف حتمی جرم، مالی جرمانے یا منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں۔ یہ ریگولیٹری عمل کا وہ مرحلہ ہے جس میں ادارے سے مبینہ عدم تعمیل پر جواب، وضاحت یا مطلوبہ دستاویز طلب کی جاتی ہے۔ ایس ای سی پی نے کہا ہے کہ مقررہ 30 روز میں تعمیل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی یا تعزیری کارروائی شروع کی جاسکتی ہے؛ اس ممکنہ کارروائی کی نوعیت متعلقہ قانون، کمپنی کے جواب اور کیس کے حقائق پر منحصر ہوگی۔

یو بی او رپورٹنگ کا مقصد صرف کمپنی کے رجسٹرڈ نام یا درمیانی شیئر ہولڈنگ اداروں کے بجائے اس حقیقی شخص تک پہنچنا ہے جو آخرکار کاروبار سے فائدہ اٹھاتا یا اسے کنٹرول کرتا ہے۔ پیچیدہ ملکیتی ڈھانچوں میں ایک کمپنی کے حصص دوسری کمپنی کے پاس اور اس کے حصص کسی تیسرے ادارے کے پاس ہوسکتے ہیں؛ فائدہ مند ملکیت کی معلومات اس سلسلے کے پیچھے موجود حقیقی افراد کی شناخت میں مدد دیتی ہے۔

ریگولیٹر نے اس نظام کو کارپوریٹ شفافیت بڑھانے اور کمپنیوں کو اثاثے چھپانے، غیر قانونی مالی بہاؤ یا منی لانڈرنگ کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے حفاظتی ڈھانچے کا حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم 28 ہزار 761 کمپنیوں کو نوٹس ملنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان سب نے ایسا کوئی مالی جرم کیا۔ رپورٹ شدہ بنیاد لازمی فارم یا معلومات کی عدم فراہمی ہے، جبکہ کسی الگ مجرمانہ الزام کے لیے متعلقہ تفتیش اور قانونی ثبوت درکار ہوں گے۔

جون 2026 کے اختتام پر ایس ای سی پی کے پاس 3 لاکھ ایک ہزار 615 کمپنیاں رجسٹرڈ تھیں۔ نوٹسز کی بڑی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریگولیٹر یو بی او تعمیل کی وسیع سطح پر جانچ کر رہا ہے، مگر جاری بیان میں کمپنیوں کے نام، شعبہ وار تقسیم، عدم تعمیل کی مدت یا ہر ادارے کے انفرادی حالات شائع نہیں کیے گئے۔ متاثرہ کمپنیوں کی مخصوص حیثیت ان کے ای زی فائل نوٹس سے معلوم ہوگی۔

فارم جمع کرانے میں مدد کے لیے ایس ای سی پی نے مخصوص ای میل سہولت بھی فراہم کی ہے۔ کمپنیوں کے لیے فوری قابلِ عمل نتیجہ یہ ہے کہ وہ 30 روز کی مدت میں نوٹس کا جواب دیں، فارم 19 مکمل کریں اور مصدقہ ثبوت فراہم کریں۔ اس کے بعد ریگولیٹر ہر کیس میں تعمیل، جواب یا مزید کارروائی کا فیصلہ کرے گا؛ تازہ اعلان بذاتِ خود حتمی سزا یا تمام کمپنیوں کے خلاف یکساں فیصلہ نہیں۔