اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ نے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) سے متعلق اپنی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لیا ہے، جس میں داخلہ نظام کو ایک ہی امتحانی کوشش پر کم انحصار کرنے، امیدواروں کو ایک سال میں متعدد مواقع دینے اور MDCAT کے موجودہ 50 فیصد داخلہ وزن کو زیادہ متوازن بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ سفارشات ابھی پالیسی تجاویز ہیں اور انہیں نافذ شدہ قانون یا پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کے حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

سینیٹ آف پاکستان کے 15 ستمبر 2026 کے سرکاری اعلامیے کے مطابق قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی صدارت میں ہوا، جہاں ذیلی کمیٹی کی کنوینر سینیٹر انوشہ رحمان نے MDCAT کی پالیسی، تیاری، منصوبہ بندی اور رابطہ کاری سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ ذیلی کمیٹی نے امیدواروں کو ہر سال MDCAT میں متعدد مرتبہ شرکت کا موقع دینے اور موجودہ 50 فیصد weightage کو rationalise کرنے کی سفارش کی۔

Express Tribune کے مطابق ذیلی کمیٹی کی رپورٹ میں MDCAT سال میں دو مرتبہ کرانے کی تجویز دی گئی تاکہ ایک ناکام کوشش سے طالب علم کا پورا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ ٹیسٹ کے نتیجے کو تین سال تک قابل استعمال رکھنے کے امکان، negative marking کے ممکنہ اثرات اور متنازع یا مبہم سوالات کے لیے باضابطہ شکایت و review mechanism کا جائزہ لیا جائے۔ امتحان کی تاریخ کافی پہلے اعلان کرنے اور غیر معمولی حالات کے سوا اسے تبدیل نہ کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

ذیلی کمیٹی نے FSc، Cambridge O/A Levels اور International Baccalaureate پس منظر رکھنے والے طلبہ کے لیے امتحان کو زیادہ منصفانہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سرکاری سینیٹ اعلامیے میں FSc اور A-Level نظام کے درمیان فرق اور MCQ پر مبنی MDCAT کے باعث نجی اکیڈمیوں پر بڑھتے انحصار کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ نے متعلقہ تعلیمی نظاموں کے ماہرین کو syllabus اور assessment کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی۔

میڈیکل نشستوں کے معاملے پر سینیٹ کے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ PMDC نے ملک میں میڈیکل نشستوں کی سالانہ تعداد 22,300 تک محدود کر رکھی ہے اور ذیلی کمیٹی نے اس حد پر نظرثانی کی سفارش کی۔ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ طبی افرادی قوت کی ملکی ضرورت، کم ترقی یافتہ علاقوں میں مواقع اور میڈیکل تعلیم کی لاگت کو دیکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ درکار ہے۔ Express Tribune کی رپورٹ میں سرکاری اور پسماندہ علاقوں کے میڈیکل کالجوں میں نشستیں بتدریج بڑھانے کے لیے پانچ سالہ منصوبے کی سفارش بھی بیان کی گئی۔

کمیٹی نے بیرون ملک میڈیکل اداروں میں داخلے کے لیے MDCAT شرط کے اطلاق اور کم معیار کے غیر ملکی اداروں کی نگرانی کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے۔ سرکاری بیان کے مطابق ذیلی کمیٹی نے ایسے غیر ملکی اداروں کی فہرست تیار اور عوام کے سامنے لانے کی سفارش کی جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے PMDC کو پالیسی سازی میں تمام متعلقہ stakeholders، خصوصاً نجی میڈیکل کالجوں، کے ساتھ بامعنی مشاورت یقینی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ طبی تعلیم کی توسیع کے ساتھ معیار کی سخت نگرانی ضروری ہے۔ اس مرحلے پر سفارشات کا عملی نفاذ PMDC اور متعلقہ حکام کے آئندہ پالیسی و قانونی اقدامات سے مشروط ہے۔