اسلام آباد: سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے بچوں سے زیادتی اور استحصال کے مقدمات میں کم سزا کی شرح، کمزور prosecution، forensic support کی محدود دستیابی اور بعض واقعات کی بروقت reporting نہ ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس 15 ستمبر 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی صدارت میں ہوا، جہاں خیبرپختونخوا پولیس اور محکمہ داخلہ کے حکام نے child-protection اقدامات اور مقدمات کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔
Dawn کے مطابق حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں 625 متعلقہ مقدمات رجسٹر کیے گئے، جن میں سے 576 پر کارروائی کی گئی اور 300 سے زیادہ trial کے لیے بھیجے گئے، جبکہ conviction rate تقریباً 6 فیصد رہی۔ یہ اعداد حکام کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ سے منسوب ہیں اور انہیں پورے پاکستان کے تمام child-abuse cases کی نمائندہ شرح نہیں سمجھا جا سکتا۔
کمیٹی نے community-level child protection units کے قانونی و انتظامی دائرۂ کار سے متعلق exact terms of reference طلب کیے اور prosecution process میں تاخیر، evidence preservation اور forensic support کے مسائل کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اراکین نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض تعلیمی ادارے abuse incidents رپورٹ کرنے میں ناکام رہتے ہیں یا انہیں ادارہ جاتی سطح پر دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ observations کمیٹی proceedings کا حصہ ہیں؛ ہر انفرادی الزام کی الگ تفتیش اور قانونی تصدیق ضروری ہوگی۔
Business Recorder نے کمیٹی اجلاس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ child protection measures، digital safety protocols اور labour welfare safeguards بھی agenda میں شامل تھے۔ خیبرپختونخوا کے DIG Investigation اور Home Department کے Deputy Secretary نے operational status report پیش کی۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں سے prevention، reporting اور prosecution کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے تفصیلی اقدامات طلب کیے۔
کمیٹی کے سامنے peer-to-peer abuse اور minors کی online exposure سے متعلق بھی اعداد اور دعوے پیش کیے گئے۔ چونکہ ایسے اعداد مختلف definitions، reporting systems اور datasets پر منحصر ہو سکتے ہیں، اس خبر میں انہیں independently verified national incidence کے طور پر نہیں پیش کیا جا رہا۔ مرکزی تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ سینیٹ انسانی حقوق کمیٹی نے کم conviction rate اور institutional response پر باضابطہ scrutiny بڑھائی اور متعلقہ حکام سے جواب و ریکارڈ طلب کیا۔
سینیٹ آف پاکستان کی سرکاری press-release listing میں 15 ستمبر کو سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی زیر صدارت Functional Committee on Human Rights کے اجلاس کی تصدیق موجود ہے۔ تفصیلی case figures اور committee directions Dawn اور Business Recorder کی اجلاس پر مبنی رپورٹس سے لیے گئے ہیں۔
بچوں سے متعلق جنسی یا جسمانی استحصال کے مقدمات میں قانونی طور پر الزام، تفتیش، prosecution اور conviction الگ مراحل ہیں۔ رجسٹرڈ مقدمہ خود جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا، جبکہ conviction عدالت کے فیصلے کے بعد قائم ہوتی ہے۔ اسی فرق کو برقرار رکھتے ہوئے کمیٹی کی تشویش اور سرکاری بریفنگ کے اعداد کو بیان کیا گیا ہے۔
