اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے داسو سے اسلام آباد تک 765 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن منصوبے میں تاخیر اور مالی انتظام سے متعلق معاملات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، بیرونی فنانسنگ کے استعمال اور تاخیر سے پیدا ہونے والے مالی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی معلومات کے مطابق منصوبے کے لیے ڈونرز سے تقریباً 76 ارب روپے وصول کیے گئے جبکہ اس رقم کے سلسلے میں تقریباً 9 ارب روپے سود ادا کیا جا چکا ہے۔ اراکین نے سوال اٹھایا کہ اگر دستیاب فنانسنگ کے باوجود منصوبہ مقررہ رفتار سے آگے نہیں بڑھا تو قرض کی لاگت کیوں بڑھتی رہی اور ذمہ داری کس سطح پر عائد ہوتی ہے۔ یہ اعداد کمیٹی کی کارروائی میں پیش کیے گئے اور ان کی حتمی آڈٹ تشریح متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور مالی دستاویزات سے ہوگی۔

765 کے وی داسو اسلام آباد ٹرانسمیشن لائن کا مقصد داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ کے بڑے لوڈ مراکز تک منتقل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ اس نوعیت کی ہائی وولٹیج لائن بجلی کے بڑے حجم کو طویل فاصلے تک منتقل کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ اگر پیداواری منصوبہ اور ترسیلی نظام ایک ہی وقت میں تیار نہ ہوں تو نئی پیداوار کو مکمل طور پر گرڈ میں شامل کرنے میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔

کمیٹی نے تاخیر کے ساتھ مالی بے قاعدگیوں سے متعلق خدشات بھی زیر بحث لائے۔ تاہم پارلیمانی کمیٹی میں کسی معاملے پر تشویش یا سوال اٹھایا جانا بذات خود کسی فرد یا ادارے کے خلاف ثابت شدہ بدعنوانی یا قانونی جرم کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ کسی الزام کی حتمی حیثیت متعلقہ تحقیقات، آڈٹ، دستاویزی ثبوت اور مجاز فورم کے فیصلے سے متعین ہوگی۔

منصوبے کی لاگت اور ٹائم لائن میں تاخیر پاکستان کے توانائی شعبے کے لیے دوہرا مسئلہ بن سکتی ہے: ایک جانب قرض یا فنانسنگ پر سود کی ادائیگی جاری رہتی ہے اور دوسری جانب بجلی کی نئی پیداواری صلاحیت کو مؤثر طریقے سے منتقل کرنے کے لیے ضروری گرڈ انفراسٹرکچر بروقت دستیاب نہیں ہوتا۔ اسی لیے کمیٹی نے منصوبے کے مالی اور انتظامی پہلوؤں کی وضاحت پر زور دیا۔

اجلاس میں شریک سینیٹرز نے متعلقہ حکام سے منصوبے کی پیش رفت، تاخیر کی وجوہات اور فنڈز کے استعمال کے بارے میں جواب طلب کیا۔ آئندہ مرحلے میں کمیٹی کی سفارشات، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے تحریری جواب اور منصوبے کی عملی تکمیل کی نئی ٹائم لائن اہم ہوگی۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پارلیمانی نگرانی کے فورم نے داسو اسلام آباد 765 کے وی لائن کی تاخیر اور اس سے منسلک مالی لاگت پر باضابطہ تشویش ظاہر کی ہے۔