کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کے الیکٹرک کے کثیر سالہ بجلی ٹیرف کے معاملے میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، یعنی نیپرا، کے اپیلیٹ ٹریبونل کے متنازع احکامات اور متعلقہ نوٹیفکیشن معطل کر دیے ہیں۔ مقدمہ کے الیکٹرک کی جانب سے دائر درخواست پر زیرِ سماعت ہے۔ عدالتی کارروائی کی یہ پیش رفت روزنامہ ڈان نے 9 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کی۔

جسٹس محمد عبدالرحمان پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے پاور ڈویژن، نیپرا اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فریقوں کو 15 اکتوبر کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ احکامات کی معطلی اور نوٹس جاری ہونے کو مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے؛ درخواست میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر مزید عدالتی کارروائی باقی ہے۔

کے الیکٹرک نے نیپرا کے اپیلیٹ ٹریبونل کے ستمبر 2026 اور اکتوبر 2025 کے فیصلوں کو چیلنج کیا ہے۔ ان فیصلوں کا تعلق نیپرا کی اکتوبر 2025 کی ٹیرف نظرثانی اور اس کے بعد بجلی کے شعبے کے ریگولیٹر اور وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن سے ہے۔ کمپنی کا موقف ہے کہ متعلقہ فیصلوں میں نظرثانی کے اختیار کو قانونی حدود سے بڑھ کر استعمال کیا گیا۔

کے الیکٹرک کے وکیل ایان میمن نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ نیپرا کی طرف سے مقرر کیا گیا ٹیرف 2024 سے 2030 تک کے سات سالہ دورانیے کے لیے تھا اور اس میں بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے شعبے شامل تھے۔ وکیل کے مطابق بعد میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں، جنہیں نیپرا نے ناقابلِ سماعت قرار دیا، جبکہ اتھارٹی نے اپنے طور پر سابقہ الگ الگ ٹیرف تعینات میں تبدیلی کا اختیار استعمال کرنے کا دعویٰ کیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدلال کیا کہ معاملہ محض پہلے فیصلے کے جائزے تک محدود رہنے کے بجائے ٹیرف کے نئے تعین کی شکل اختیار کر گیا اور ان کے نزدیک یہ طریقہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وکیل نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ متعلقہ طرزِ تعین سے کے الیکٹرک پر سبسڈی کا بوجھ منتقل ہو سکتا ہے اور بعد میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے صارفین پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ کمپنی کے وکیل کے قانونی اور مالی استدلال ہیں، عدالت کی تصدیق شدہ حتمی findings نہیں۔

رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک نے پہلے اسلام آباد میں اپیلیٹ ٹریبونل سے رجوع کیا تھا لیکن وہاں نیپرا کے فیصلے برقرار رکھے گئے، جس کے بعد کمپنی سندھ ہائی کورٹ پہنچی۔ موجودہ حکم صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ عدالت نے متنازع احکامات کو فی الحال معطل کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں کو جواب دینے کا موقع دیا ہے۔ مقدمے کا آخری نتیجہ، نیپرا کے اختیارات کی قانونی حدود اور صارفین کے بلوں پر کسی مستقل اثر کا تعین مزید سماعت اور عدالتی فیصلے سے مشروط رہے گا۔