اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ نے پاکستان ریلوے کی کراچی تا پشاور مین لائن ون، ایم ایل ون، کی جدید کاری اور منصوبے کا جلد سنگ بنیاد رکھنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے مطابق 4 ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں اس ریلوے راہداری کو قومی بنیادی ڈھانچے کی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کو مال برداری کے نظام کی جدید کاری، علاقائی تجارتی رابطوں کے استحکام اور بڑے صنعتی منصوبوں کی معاونت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ملاقات میں جلد گراؤنڈ بریکنگ کی ضرورت پر اتفاقِ رائے کا ذکر کیا گیا، تاہم کسی نئی حتمی تاریخ، تعمیراتی معاہدے یا مکمل مالی بندوبست کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے پیش رفت کو عملی تعمیر کے آغاز کے بجائے اعلیٰ سطح کی پالیسی گفتگو اور تیز نفاذ کی ہدایت سمجھا جانا چاہیے۔
ایم ایل ون پاکستان کی مرکزی ریلوے لائن ہے جو کراچی کو پشاور سے جوڑتی ہے اور سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے متعدد بڑے شہروں اور صنعتی مراکز سے گزرتی ہے۔ منصوبے کا مقصد پرانے ٹریک، سگنلنگ، پلوں، اسٹیشنوں اور متعلقہ نظام کو مرحلہ وار بہتر بنانا، مسافر و مال گاڑیوں کی رفتار اور حفاظت میں اضافہ کرنا اور ریل کے ذریعے سامان کی ترسیل کی صلاحیت بڑھانا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 1,670 کلومیٹر طویل ایم ایل ون منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 10 ارب ڈالر کے قریب بیان کیا گیا ہے۔ پاکستان کراچی سے روہڑی حصے کے لیے اے ڈی بی سے دو ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کر چکا ہے، جبکہ حکومت پورے منصوبے کے مختلف حصوں کے لیے پاکستانی، چینی اور کثیرالجہتی ذرائع کو ملا کر فنڈنگ کا ماڈل اختیار کرنے کی بات کرتی رہی ہے۔ مالی اعداد منصوبے کے مرحلے اور دائرۂ کار کے مطابق بدل سکتے ہیں، اس لیے حتمی لاگت منظور شدہ معاہدوں سے ہی واضح ہو گی۔
ایم ایل ون طویل عرصے سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا نمایاں منصوبہ رہا ہے، لیکن لاگت، مالی شرائط، تکنیکی مذاکرات اور انتظامی تاخیر کے باعث اس پر مکمل رفتار سے کام شروع نہیں ہو سکا۔ منصوبے کا حجم کم کرنے، پہلے مرحلے کو ترجیح دینے اور مختلف مالیاتی شراکت دار شامل کرنے کے بعد حکومت اب ابتدائی حصوں پر عمل درآمد آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
وزیراعظم اور اے ڈی بی نائب صدر کی ملاقات میں صرف ریلوے منصوبہ زیر بحث نہیں آیا۔ دونوں فریقوں نے ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستان کے لیے نئی کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026 تا 2030 کے تحت ترجیحی شعبوں کا بھی جائزہ لیا۔ اس حکمت عملی کے تحت نجی شعبے، توانائی و غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، شہری بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں تعاون بڑھانے کی بات کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت مالی، ساختی اور گورننس اصلاحات کے ذریعے معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مخصوص عمل درآمد ٹاسک فورسز کام کر رہی ہیں۔ یہ حکومتی مؤقف ہے؛ منصوبوں کی حقیقی پیش رفت کا جائزہ منظور شدہ فنڈنگ، ٹینڈر، زمین و آبادکاری کے انتظامات، تعمیراتی سنگ میل اور عوامی طور پر دستیاب تکمیلی اہداف سے لیا جائے گا۔
ریلوے کی اپ گریڈیشن سے ممکنہ طور پر بندرگاہوں سے اندرون ملک مال کی ترسیل، صنعتی شہروں کے درمیان رابطہ اور سڑکوں پر بھاری ٹریفک کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم بڑے ریلوے منصوبوں میں لاگت میں اضافہ، تعمیر کے دوران سروس کی روانی، حفاظتی معیارات، زمین کے استعمال اور متاثرہ آبادیوں کی آبادکاری جیسے معاملات اہم ہوتے ہیں۔ ملاقات کے بیان میں ان عملی پہلوؤں کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
موجودہ پیش رفت کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور اے ڈی بی کی اعلیٰ قیادت نے ایم ایل ون کو شراکت داری کے مرکزی موضوع کے طور پر برقرار رکھا اور جلد سنگ بنیاد رکھنے کی ضرورت دہرائی۔ اگلا قابل پیمائش مرحلہ منصوبے کے متعلقہ حصے کی حتمی مالی بندش، خریداری و ٹینڈر کا شیڈول اور تعمیر شروع ہونے کی تصدیق ہو گا۔




