اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی دارالحکومت میں بحالی کے بعد پاکستان-چین فرینڈشپ ہسپتال کا افتتاح کر دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں 182 بستروں کی گنجائش ہے اور اسے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کے لیے دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت کی معیاری سہولتوں تک عوام کی رسائی بڑھانے پر زور دیا۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال میں انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک کے تعاون سے علاج فراہم کیا جائے گا اور مریضوں کے لیے خدمات بلا معاوضہ رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کا مقصد سرکاری سرپرستی اور ایک تجربہ کار غیر منافع بخش طبی نیٹ ورک کے ذریعے علاج کی فراہمی کو منظم کرنا ہے۔
پاکستان-چین فرینڈشپ ہسپتال کی بحالی دونوں ممالک کے تعاون سے منسلک ایک صحت عامہ منصوبہ ہے۔ اسلام آباد اور گرد و نواح میں سرکاری اور کم لاگت طبی سہولتوں پر مریضوں کا دباؤ رہتا ہے، اس لیے 182 بستروں کی اضافی گنجائش علاج کے دستیاب انفراسٹرکچر میں اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم ہسپتال کے حقیقی اثرات مریضوں کی تعداد، دستیاب طبی شعبوں، عملے اور روزمرہ آپریشن کے اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔
افتتاح کسی نئے ہسپتال کی تعمیر کے بجائے موجودہ سہولت کی بحالی اور دوبارہ فعال ہونے کا مرحلہ ہے۔ اس فرق کی اہمیت اس لیے ہے کہ منصوبے سے متعلق رپورٹنگ میں افتتاح کے ساتھ بحالی کا پس منظر بھی شامل ہے۔ دستیاب معلومات میں تمام طبی شعبوں، سالانہ آپریشنل بجٹ یا مستقبل کی توسیع کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، اس لیے ان امور پر غیر مصدقہ اندازے شامل نہیں کیے جا سکتے۔
حکومت نے اس اقدام کو عوامی صحت کی خدمات بہتر بنانے اور پاکستان و چین کے تعاون کی عملی مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ ہسپتال کی 182 بستروں کی گنجائش اور مفت علاج کا اعلان عملی سطح پر کس طرح نافذ ہوتا ہے اور وفاقی دارالحکومت کے مریضوں کے لیے خدمات کی دستیابی میں کتنا اضافہ کرتا ہے۔
