اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی ترقی کو مضبوط بنانے کے لیے بین الاقوامی مشاورتی اداروں کے ساتھ بامعنی شراکت کے لیے تیار ہے، تاہم ایسی شراکت داری میں عملی نتائج اور جوابدہی کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔ وزیراعظم نے یہ بات عالمی کنسلٹنگ فرم Alvarez & Marsal کے شمالی امریکا آپریشنز کے منیجنگ ڈائریکٹر پیٹر بریگز سے ملاقات کے دوران کہی۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق شہباز شریف نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستانی معیشت کو امید افزا عالمی منڈیوں سے جوڑنے اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معاشی ماہرین سے مشاورت بڑھانے کی خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی اور مالی استحکام کے حصول کے بعد حکومت ساختی اور اقتصادی اصلاحات کو آگے بڑھا رہی ہے تاکہ برآمدات پر مبنی نمو اور زیادہ پیداواری معیشت کی بنیاد مضبوط ہو۔
وزیراعظم نے ملکی مینوفیکچرنگ شعبے کی کارکردگی اور استعداد بہتر بنانے اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق حکومت ریاستی ملکیتی اداروں کی معاشی افادیت کا جائزہ لینے کے لیے حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے اور نتائج کی بنیاد پر نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے ماہرین اور پیشہ ورانہ اہلیت رکھنے والی افرادی قوت کی ٹیم ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی مشاورتی اداروں کے ساتھ تعاون محض سفارشات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے اثرات قابل پیمائش ہوں اور متعلقہ شراکت دار جوابدہ بھی ہوں۔ وزیراعظم آفس نے اس ملاقات کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے، مالی قدر یا باقاعدہ کنسلٹنگ کنٹریکٹ پر دستخط کا اعلان نہیں کیا۔
پیٹر بریگز نے حکومت کی جانب سے غیرملکی سرمایہ کاری راغب کرنے اور عالمی معاشی ماہرین کے ساتھ رابطے کے عزم کو سراہا۔ وزیراعظم آفس کے مطابق انہوں نے پاکستان میں ترقی پسند کاروباری ماحول اور پیداواری معیشت کے فروغ کے لیے مثبت رابطہ اور تعاون قائم کرنے میں اپنی فرم کی دلچسپی ظاہر کی۔ یہ دلچسپی ابتدائی سفارتی و کاروباری رابطے کی سطح پر ہے اور اسے کسی حتمی تجارتی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر سینئر حکام بھی شریک ہوئے۔ حکومت کی موجودہ معاشی حکمت عملی میں ساختی اصلاحات، ریاستی اداروں کی کارکردگی، نجکاری، برآمدی نمو اور ایف ڈی آئی اہم موضوعات ہیں۔ تازہ ملاقات اسی وسیع پالیسی عمل کے تحت عالمی مہارت سے استفادہ کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

