اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی حکمت عملی میں نجی شعبے کے کردار، مینوفیکچرنگ کی توسیع اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات عالمی مشاورتی فرم الواریز اینڈ مارسل کے منیجنگ ڈائریکٹر پیٹر بریگز سے ملاقات کے دوران کہی، جس میں معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول سے متعلق امور زیر بحث آئے۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایسی برآمدی نمو کو فروغ دینا چاہتی ہے جس کی قیادت نجی شعبہ کرے۔ اس تناظر میں صنعتی پیداوار بڑھانا، بین الاقوامی سرمایہ راغب کرنا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی نوجوان آبادی، انسانی وسائل اور مختلف شعبوں میں موجود معاشی امکانات کو سرمایہ کاری کے لیے اہم عوامل قرار دیا۔

ملاقات میں سرکاری ملکیتی اداروں کی کارکردگی اور نجکاری کے عمل پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت غیر مؤثر سرکاری اداروں کے بوجھ کو کم کرنے اور نجی شعبے کے لیے زیادہ جگہ پیدا کرنے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ملاقات میں کسی مخصوص سرکاری ادارے کی فروخت، کسی سرمایہ کاری معاہدے یا نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی حتمی مالیت کا اعلان نہیں کیا گیا۔

پیٹر بریگز نے پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی اقدامات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کا محور اس امر پر رہا کہ پالیسی اصلاحات اور ادارہ جاتی تبدیلیوں کو کس طرح عملی سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدی سرگرمی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کو طویل مدت میں برآمدات بڑھانے، صنعتی مسابقت بہتر بنانے اور بیرونی سرمایہ کاری کے مستقل بہاؤ کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کی گفتگو اسی وسیع معاشی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ سرکاری بیان میں پیش کیے گئے اہداف پالیسی ترجیحات کی نشاندہی کرتے ہیں؛ ان کے نتائج کا تعین آئندہ سرمایہ کاری کے اعداد و شمار، صنعتی پیداوار، نجکاری کے عملی مراحل اور برآمدی کارکردگی سے ہوگا۔