وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے باضابطہ ملاقات کی، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور کئی دوسرے عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے وزیراعظم آفس کے بیان کے حوالے سے بتایا کہ شہباز شریف تین روزہ سرکاری دورے پر بشکیک پہنچے ہیں، جہاں وہ ایس سی او سربراہ اجلاس اور ایس سی او پلس اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ایرانی صدر سے ملاقات میں بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور پاکستان ایران تعلقات پر بات ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نے جون میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو دیرپا علاقائی امن کی طرف قابلِ عمل راستہ قرار دیا اور صدر پزشکیان کے جون میں دورۂ پاکستان کے دوران ہونے والی مفاہمت پر آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ روابط مضبوط بنانے کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے ایرانی صدر کو پاکستان آنے کی دعوت دی، جبکہ صدر پزشکیان نے انہیں دسمبر 2026 میں تہران میں ہونے والے اقتصادی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق ایرانی میڈیا سے گفتگو میں شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران علاقائی امن اور کشیدگی میں کمی کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔ یہ سرکاری مؤقف ہے؛ دستیاب رپورٹس میں کسی نئے معاہدے یا فوری پالیسی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ملاقات کو جاری سفارتی رابطے اور پہلے سے موجود مفاہمت پر عمل درآمد کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی نئے حتمی سمجھوتے کے طور پر۔
وزیراعظم نے چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز کی افتتاحی تقریب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، آذربائیجان کے صدر الہام علییف، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ تاجکستان، لاؤس، ٹوگو اور منگولیا کے رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت میں باہمی تعلقات اور مشترکہ دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔ رپورٹ نے ان رابطوں کو غیر رسمی قرار دیا ہے اور ان کے نتیجے میں کسی مخصوص تجارتی یا دفاعی معاہدے کی تصدیق نہیں کی۔
شہباز شریف دورے کے دوران ایس سی او اجلاس سے خطاب کریں گے اور علاقائی و عالمی معاملات پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔ پاکستان 2026-27 کے لیے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت سنبھالنے والا ہے اور 2027 میں سربراہ اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ دو ستمبر کو کرغز صدر صدیر جپاروف کے ساتھ باضابطہ مذاکرات بھی طے ہیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطہ، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط کے امکانات زیرِ غور آئیں گے۔
وزیراعظم کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور سینئر حکام شامل ہیں۔ اس دورے کی عملی پیش رفت کا اندازہ آئندہ مشترکہ اعلامیوں، طے پانے والے فیصلوں اور دوطرفہ مذاکرات کے نتائج سے ہوگا۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ملاقاتوں، علاقائی امن کے بارے میں بیانات اور ایس سی او کی آئندہ پاکستانی صدارت تک محدود ہے۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




