کراچی: سندھ کابینہ نے صوبے کی کچے کی زمینوں کے جامع سروے اور نقشہ سازی کے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے 70 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ منظور کرلیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے آف پاکستان حکومت سے حکومت، یعنی جی ٹو جی بنیاد پر یہ کام مکمل کرے گا۔

منصوبے کا مقصد دریا کے ساتھ واقع کچے کے علاقوں کی حدود، رقبے، ملکیت اور موجودہ استعمال سے متعلق ایک درست ڈیٹا بیس تیار کرنا ہے۔ کابینہ بریفنگ میں کہا گیا کہ بہتر نقشہ سازی سے زمین کے انتظام، ترقیاتی منصوبہ بندی اور ریونیو مینجمنٹ میں مدد ملے گی، جبکہ تجاوزات کی نشاندہی اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی قابل استعمال معلومات دستیاب ہوں گی۔ یہ منصوبے کے بیان کردہ مقاصد ہیں؛ سروے مکمل ہونے سے پہلے کسی مخصوص ملکیتی تنازع یا قبضے کا حتمی فیصلہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

رپورٹ کے مطابق منصوبہ 15.5 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کے درمیان معاہدہ جولائی 2026 میں ہوا تھا، جبکہ اسکیم کو 31 مارچ کو اصولی منظوری دی گئی تھی۔ کابینہ نے اب باقاعدہ بجٹ اور عملی دائرے کی منظوری دی ہے۔ اسے فوری تکمیل کے بجائے سروے کے آغاز اور ادارہ جاتی اختیار کی منظوری سمجھا جائے گا۔

سروے دو مراحل میں ہوگا۔ پہلے مرحلے میں کچے کی زمینوں کی حدود اور مجموعی رقبے کا تعین، سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ، جی آئی ایس میپنگ اور جیوڈیٹک کنٹرول کا کام کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں کیڈسٹرل نقشے تیار ہوں گے، دیہہ، تعلقہ اور ضلع کی سطح پر حدود واضح کی جائیں گی، زمین کے استعمال کی جیو ٹیگنگ ہوگی اور پارسل سطح پر ملکیت و استعمال کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔

اس منصوبے میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور شہید بینظیرآباد ڈویژنز کے 613 دیہہ شامل کیے گئے ہیں۔ بریفنگ میں کچے کی متعلقہ زمینوں کا مجموعی رقبہ تقریباً 16 لاکھ 10 ہزار ایکڑ بتایا گیا۔ حتمی نقشوں اور جامع رپورٹس کی تیاری کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ مختلف زمروں، سرکاری ملکیت، نجی دعووں اور زمین کے استعمال کی مکمل تقسیم کیا بنتی ہے۔

وزیراعلیٰ نے بورڈ آف ریونیو اور سروے آف پاکستان کو درستگی، شفافیت اور مقررہ مدت کی پابندی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ منصوبے کی اہم کامیابی صرف نقشے بنانا نہیں بلکہ ایسا قابل اعتماد ریکارڈ تیار کرنا ہوگی جسے انتظامیہ، ماحولیات، ریونیو اور منصوبہ بندی کے فیصلوں میں استعمال کیا جا سکے۔ اگلے مراحل میں عملی سروے، پارسل ڈیٹا کی تصدیق اور مقررہ 15.5 ماہ کے اندر حتمی رپورٹ کی فراہمی قابل نگرانی نکات ہوں گے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک