کراچی: سندھ میں ایم پاکس کے مزید سات مریضوں کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسپتال میں داخل کیا گیا ہے، جس کے بعد صوبے میں رواں سال رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 98 ہوگئی۔ نئے مریض کراچی کے رہائشی ہیں اور سندھ انفیکشس ڈیزیز ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر میں زیر علاج ہیں۔ مریضوں میں ایک شیرخوار بچہ بھی شامل ہے، جبکہ حکام نے صحت مراکز کو انفیکشن کنٹرول کے ضابطوں پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
طبی ذرائع کے مطابق اسپتال میں داخل بالغ مریضوں کی حالت مستحکم ہے۔ اس دوران پہلے سے داخل ایک شیرخوار کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے کیونکہ اسے دیگر انفیکشن بھی لاحق ہوئے اور خوراک لینے میں کمی آئی ہے۔ یہ معلومات علاج کرنے والے طبی عملے کی ابتدائی صورتحال پر مبنی ہیں اور مریضوں کی حالت وقت کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہے۔
ایم پاکس ایک وائرل بیماری ہے جو قریبی جسمانی رابطے، متاثرہ مواد یا بعض حالات میں سانس کی قریبی بوندوں کے ذریعے منتقل ہوسکتی ہے۔ عام علامات میں بخار، جسم میں درد، لمف نوڈز کی سوجن اور جلد پر دانے یا زخم شامل ہوسکتے ہیں۔ زیادہ تر مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں، لیکن کم عمر بچوں، کمزور مدافعت رکھنے والے افراد اور بعض دوسرے مریضوں میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔
صحت حکام نے نئی صورتحال کے بعد نگرانی بڑھانے اور اسپتالوں میں انفیکشن کی روک تھام کے طریقہ کار پر سختی سے عمل کرانے پر زور دیا ہے۔ اس میں مشتبہ مریضوں کی بروقت شناخت، مناسب حفاظتی سامان، مریضوں کی علیحدگی اور قریبی رابطوں کی نگرانی شامل ہوسکتی ہے۔ حکام نے عوام سے غیر ضروری خوف سے گریز کرنے کو کہا ہے، لیکن علامات ظاہر ہونے یا تصدیق شدہ مریض سے قریبی رابطے کی صورت میں طبی مشورہ لینے کی ضرورت برقرار ہے۔
صوبائی کیسز کی تعداد میں اضافہ اس بات کی ضرورت ظاہر کرتا ہے کہ بیماری کی منتقلی کے ذرائع اور متاثرہ گروہوں کا باقاعدہ تجزیہ کیا جائے۔ 98 کیسز رواں سال کی مجموعی صوبائی تعداد ہے اور اسے پورے ملک کی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ آنے والے ہفتوں میں نئے کیسز، رابطہ نگرانی اور مریضوں کی صحت یابی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوگا کہ موجودہ اضافہ محدود کلسٹرز تک ہے یا وسیع تر کمیونٹی منتقلی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
