حیدرآباد: بدین سے تعلق رکھنے والا چھ سالہ بچہ ریبیز کی علامات کے بعد لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد میں انتقال کر گیا، جس کے بعد محکمہ صحت سندھ کے مطابق رواں سال صوبے میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد 43 ہو گئی ہے۔ بچے کو تقریباً ایک ماہ قبل آوارہ کتے نے کاٹا تھا اور بعد میں اس میں ریبیز کی علامات ظاہر ہوئیں۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق بچے بلال کو 24 اکتوبر کو لیاقت یونیورسٹی ہسپتال لایا گیا تھا۔ اس سے قبل اسے بدین میں علاج فراہم کیا گیا تھا۔ واقعے کے بعد یہ سوال اٹھا کہ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد دی جانے والی پوسٹ ایکسپوژر پروفیلیکسیس، ویکسین اور ضرورت کے مطابق ریبیز امیونوگلوبیولن کا کورس کس حد تک درست طریقے سے مکمل ہوا۔

محکمہ صحت نے کیس کی تحقیقات شروع کیں اور بدین کے بعض ڈاکٹروں کے خلاف انتظامی کارروائی بھی کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں ویکسین کی دستیابی، کولڈ چین، امیونوگلوبیولن کے استعمال اور علاج کے پروٹوکول پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ کسی طبی اہلکار کی حتمی ذمہ داری کا تعین مکمل انکوائری کے بعد ہونا چاہیے، اس لیے ابتدائی معطلی یا محکمانہ کارروائی کو حتمی قصور ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔

ریبیز ایک تقریباً ہمیشہ مہلک وائرل بیماری ہے جب اس کی واضح علامات شروع ہو جائیں، لیکن جانور کے کاٹنے کے فوراً بعد زخم کو اچھی طرح دھونے، بروقت ویکسین لگوانے اور مخصوص حالات میں ریبیز امیونوگلوبیولن دینے سے بیماری کو روکا جا سکتا ہے۔ اسی لیے کتے کے کاٹنے کے ہر واقعے میں فوری طبی معائنہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

سندھ میں آوارہ کتوں کی بڑی تعداد، ویکسین کی مسلسل دستیابی، سرکاری مراکز تک رسائی اور جانوروں کی ویکسینیشن طویل عرصے سے صحت عامہ کے چیلنج ہیں۔ 43 اموات کا سرکاری عدد اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن ہر کیس کی طبی تفصیلات مختلف ہو سکتی ہیں۔ بدین کے بچے کے معاملے میں محکمہ صحت کی تحقیقات یہ واضح کرنے کے لیے اہم ہوں گی کہ آیا علاج میں کسی مرحلے پر تاخیر، ویکسینیشن کی خامی یا دوسرے عوامل نے کردار ادا کیا۔