جنوبی وزیرستان: اپر اور لوئر جنوبی وزیرستان کی ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات اور سکیورٹی فورسز کے لیے لاجسٹک سامان کی محفوظ نقل و حرکت کے پیش نظر ہفتہ 24 اکتوبر کو متعدد علاقوں میں دفعہ 144 کے تحت پابندیاں نافذ کیں۔ دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے جن میں شہریوں کی آمدورفت، مخصوص سڑکوں تک رسائی اور متاثرہ علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں سے متعلق ہدایات دی گئیں۔

لوئر جنوبی وزیرستان میں وانا بازار، وانا بائی پاس اور کئی ملحقہ علاقوں کو پابندیوں میں شامل کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق وانا، تیارزہ گیٹ، کراب کوٹ، تنائی، عزیز آباد چوک اور درگئی پل سے گزرنے والے متعدد راستوں پر نقل و حرکت محدود کی گئی، جبکہ گل کچھ سے توئی خلہ اور تنائی کو ملانے والے راستوں پر بھی داخلہ روکا گیا۔ حکام نے کہا کہ ہنگامی صورت میں پولیس یا سکیورٹی فورسز کی پیشگی اجازت سے سفر کیا جا سکے گا۔

نوٹیفکیشن میں شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کا کہا گیا۔ گاڑی چلانے والوں کو سکیورٹی فورسز نظر آنے پر کم از کم 50 میٹر فاصلے پر گاڑی روکنے کی ہدایت بھی دی گئی۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قانون کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔

اپر جنوبی وزیرستان میں سرویکئی اور سراروغہ تحصیلوں سمیت متعدد علاقوں میں الگ حکم کے ذریعے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔ یہاں بھی بنیادی وجہ سکیورٹی انتظامات اور فورسز کے لاجسٹک سامان کی نقل و حرکت بتائی گئی۔ متاثرہ علاقوں میں بازاروں اور تجارتی مراکز کی بندش کے احکامات بھی شامل تھے، جبکہ لدھا، مکین، سراروغہ، نظر خیل، درگئی پل، مادی جان، شین ورسک اور جنڈولہ کی طرف جانے والے مختلف راستوں پر پابندیاں لگائی گئیں۔

حکام نے ہنگامی سفر کے لیے شناختی دستاویزات کی تصدیق اور پولیس یا سکیورٹی فورسز کی اجازت کی شرط رکھی۔ پولیو ورکرز اور ویکسینیشن ٹیموں کو شناخت ثابت کرنے کے بعد متاثرہ علاقوں میں نقل و حرکت کی اجازت دی گئی تاکہ جاری صحت عامہ کی سرگرمیاں مکمل طور پر متاثر نہ ہوں۔

دفعہ 144 انتظامیہ کو مخصوص حالات میں عوامی نقل و حرکت یا بعض سرگرمیوں پر عارضی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ موجودہ احکامات کو کسی مستقل کرفیو کے طور پر بیان نہیں کیا گیا بلکہ 24 اکتوبر کے لیے مخصوص سکیورٹی انتظام قرار دیا گیا۔ انتظامیہ نے مقامی آبادی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی ہے۔