اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ بینکنگ کورٹ کسی بینک کو ایسا مارک اپ نہیں دے سکتی جس کا مطالبہ اصل دعویٰ میں واضح طور پر نہ کیا گیا ہو۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کریسنٹ اسپننگ ملز لمیٹڈ کی اپیل منظور کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فروری 2019 کے فیصلے اور بینکنگ کورٹ کے ترمیمی حکم کو صرف اس حد تک کالعدم کیا جس کے ذریعے سٹی بینک کے حق میں ڈگری میں بعد ازاں مارک اپ شامل کیا گیا تھا۔

مقدمے کے ریکارڈ کے مطابق کریسنٹ اسپننگ ملز نے 1990 سے 1995 کے درمیان سٹی بینک سے مالی سہولتیں حاصل کیں اور طے شدہ شیڈول کے مطابق ادائیگی نہ ہونے پر بینک نے نومبر 1995 میں 7 کروڑ 62 لاکھ 41 ہزار 234 روپے اور 68 پیسے کی ریکوری کا دعویٰ دائر کیا۔ مقدمہ اس وقت نافذ بینکنگ ٹریبونلز آرڈیننس 1984 کے تحت شروع ہوا اور 15 اکتوبر 1999 کو بینک کے حق میں اصل رقم کی ڈگری جاری ہوئی۔

بعد میں سٹی بینک نے ضابطۂ دیوانی کی دفعہ 152 کے تحت درخواست دے کر مقدمہ دائر ہونے کی تاریخ سے مکمل وصولی تک مارک اپ کو ڈگری میں شامل کرنے کی استدعا کی۔ بینکنگ کورٹ نے درخواست منظور کرکے ڈگری میں ترمیم کر دی۔ کریسنٹ اسپننگ ملز نے اس تبدیلی کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی، مگر 7 فروری 2019 کو اپیل مسترد ہو گئی، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔

سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا کسی عدالتی ڈگری میں دفعہ 152 کے ذریعے ایسا مالی ریلیف شامل کیا جا سکتا ہے جو اصل دعویٰ میں مانگا ہی نہ گیا ہو۔ فیصلے میں کہا گیا کہ دفعہ 152 کا دائرہ کتابتی، حسابی یا حادثاتی غلطی اور سہو کی اصلاح تک محدود ہے۔ اسے مقدمہ دوبارہ سننے، فریقین کے بنیادی حقوق بدلنے یا نئی مالی ذمہ داری پیدا کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کسی عدالتی یا substantive غلطی کا علاج نظرثانی یا اپیل کے مناسب طریقے سے کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے ضابطۂ دیوانی کے آرڈر سات، قاعدہ سات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دعویٰ میں مطلوبہ ریلیف صاف طور پر لکھنا ضروری ہے تاکہ مدعا علیہ کو معلوم ہو کہ اسے کس مطالبے کا دفاع کرنا ہے۔ عدالت کے مطابق جو ریلیف نہ مانگا جائے اسے آرڈر دو، قاعدہ دو کے تحت ترک شدہ سمجھا جا سکتا ہے۔ محض یہ عمومی جملہ لکھ دینا کہ عدالت کوئی اور مناسب ریلیف بھی دے سکتی ہے، الگ اور غیر مانگی گئی مالی ذمہ داری کے لیے کافی نہیں، جب تک وہ ریلیف پہلے سے بیان کردہ حقائق اور شواہد سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہ ہو۔

فیصلے میں اپیلی عدالت کے وسیع اختیارات بھی واضح کیے گئے۔ آرڈر اکتالیس، قاعدہ 33 کے تحت اپیلی عدالت مکمل انصاف کے لیے ڈگری میں مناسب تبدیلی یا متبادل ریلیف دے سکتی ہے، لیکن وہ ایسا نیا مقدمہ یا سببِ دعویٰ تشکیل نہیں دے سکتی جو ٹرائل کورٹ کے سامنے کبھی پیش نہ ہوا ہو۔ سٹی بینک کی اصل استدعا میں مارک اپ کا الگ مطالبہ شامل نہ ہونے کے باعث اسے بعد میں دفعہ 152 کی تصحیح کے نام پر شامل کرنا بنیادی نوعیت کی تبدیلی تھی۔

سپریم کورٹ نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرکے منظور کیا اور لاہور ہائی کورٹ و بینکنگ کورٹ کے احکامات صرف مارک اپ والے حصے تک ختم کیے۔ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ کریسنٹ اسپننگ ملز کے خلاف اصل رقم کی ریکوری ڈگری یا قرض کی بنیادی ذمہ داری ختم ہو گئی؛ مصدقہ قانونی نتیجہ یہ ہے کہ غیر مانگا گیا مارک اپ ترمیمی ڈگری کے ذریعے نہیں دیا جا سکتا۔

یہ فیصلہ بینکنگ مقدمات کے علاوہ دیوانی دعوؤں میں بھی pleadings اور مطلوبہ ریلیف کی اہمیت واضح کرتا ہے، مگر اس کا اطلاق ہر مقدمے کے اپنے حقائق، قانونی متن اور دعویٰ کی زبان پر ہوگا۔ فیصلے میں کسی عمومی طور پر واجب مارک اپ کی ممانعت نہیں کی گئی؛ پابندی اس مخصوص صورت پر ہے جہاں متعلقہ ریلیف اصل دعوے میں طلب نہ کیا گیا ہو اور اسے بعد میں محض تصحیح کی شق سے شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔