سپریم کورٹ نے سندھ حکومت اور ایک جائیداد کی مالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کرایہ داری و ملکیت کے تنازع میں سندھ ہائیکورٹ کا 5 دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ تازہ فیصلے کے لیے دوبارہ ہائیکورٹ کو بھیج دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کے دیر سے سامنے آنے والے ملکیتی دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کا واقعی جائیداد میں کوئی قانونی حق یا ملکیت تھی تو اس نے طویل عرصے تک اسے واضح طور پر کیوں نہیں اٹھایا۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی شامل تھے، نے رشیدہ بیگم کی درخواست پر فیصلہ دیا۔ مقدمہ ایک ہزار مربع گز کے پلاٹ سے متعلق ہے جو درخواست گزار نے بشریٰ راحت سے 28 مارچ 2011 کو دو رجسٹرڈ سیل ڈیڈز کے ذریعے خریدا تھا۔ اس جائیداد میں سندھ حکومت پہلے ہی کرایہ دار تھی اور سابق مالک کو ماہانہ پچاس ہزار روپے کرایہ ادا کرتی رہی تھی۔
نئی مالک نے سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کی دفعہ 18 کے تحت حکومت کو ملکیت کی تبدیلی سے آگاہ کیا۔ بعد میں تنازع مختلف مراحل میں رینٹ کنٹرولر، اپیلوں اور آئینی درخواستوں تک پہنچا۔ سندھ حکومت نے ایک مرحلے پر مؤقف اختیار کیا کہ جائیداد حکومت نے requisition کی تھی اور اصل خریدار کے حق میں ہونے والی نیلامی 1974 میں منسوخ ہو چکی تھی۔
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ پہلے کی عدالتی کارروائی میں حکومت سابق مالک کی ملکیت تسلیم کر چکی تھی۔ عدالت کے مطابق محض زبانی طور پر یہ کہنا کہ کئی دہائیاں پہلے نیلامی منسوخ ہو گئی تھی، کرایہ دار اور مالک کے قائم تعلق کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً جب متعلقہ نوٹیفکیشن یا دستاویزی بنیاد بروقت ریکارڈ پر پیش نہ کی گئی ہو۔ عدالت نے متضاد قانونی مؤقف اختیار کرنے کے اصولی مسئلے کی بھی نشاندہی کی۔
سندھ ہائیکورٹ نے پہلے نچلی عدالتوں کے نتائج کالعدم کرتے ہوئے رشیدہ بیگم کو ملکیت کے تعین کے لیے سول مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو ختم کرتے ہوئے معاملہ سندھ ہائیکورٹ کو واپس بھیج دیا اور کہا کہ اسے آزادانہ ذہن سے دوبارہ فیصلہ کیا جائے، ترجیحاً سپریم کورٹ کا فیصلہ موصول ہونے کے چھ ماہ کے اندر۔
عدالت عظمیٰ کا حکم خود جائیداد کی حتمی ملکیت کا اعلان نہیں ہے۔ اس کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کو تنازع، سابقہ عدالتی ریکارڈ، کرایہ داری کے تعلق اور حکومت کے دعوے کی دستاویزی بنیاد کا نئے سرے سے جائزہ لینا ہوگا۔ حتمی حقوق کا تعین آئندہ عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
