پاکستان کے نئے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ، سفیر سید حیدر شاہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دی ہیں۔ یہ ملاقات منگل کو ہوئی، جس کے ساتھ ہی انہوں نے عالمی ادارے میں پاکستان کے مستقل نمائندے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں باضابطہ طور پر سنبھالنے کا عمل مکمل کیا۔

ملاقات کے دوران سید حیدر شاہ نے کثیرالجہتی سفارت کاری، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی ادارے کے امن و سلامتی، پائیدار ترقی اور انسانی حقوق سے متعلق کام کے لیے پاکستان کی وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے سیکرٹری جنرل کے لیے نیک خواہشات بھی پہنچائیں۔ رپورٹ کے مطابق انتونیو گوتریس نے بھی خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے کردار کو مثبت اور تعمیری قرار دیا۔

سید حیدر شاہ ایک کیریئر سفارت کار ہیں اور اس تقرری سے قبل مارچ 2025 سے نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ 2020 سے 2022 تک نیپال میں بھی پاکستان کے سفیر رہے۔ اس سے پہلے 2016 سے 2020 کے دوران نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں نائب سربراہ مشن کے طور پر تعینات رہے اور ایک عرصے تک قائم مقام ہائی کمشنر کی ذمہ داری بھی نبھائی۔

ان کا سفارتی تجربہ کثیرالجہتی امور اور بین الاقوامی قانون تک پھیلا ہوا ہے۔ 2008 سے 2013 تک وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹوریٹ میں قانونی افسر رہے۔ 2002 سے 2006 تک پاکستان کے مستقل مشن میں خدمات کے دوران انہوں نے جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی کے امور دیکھے اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کی قراردادوں سے متعلق مذاکرات میں حصہ لیا۔ نومبر 2022 سے فروری 2025 تک وہ وزارت خارجہ میں اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے امور کے ایڈیشنل سیکرٹری بھی رہے۔

سید حیدر شاہ نے عاصم افتخار احمد کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جو گزشتہ ماہ نیویارک سے واپس آ کر پاکستان کے سیکرٹری خارجہ بن گئے تھے۔ مستقل مندوب کی تبدیلی ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان کو اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر سلامتی، علاقائی تنازعات، ترقیاتی مالیات اور عالمی اداروں میں اصلاحات جیسے معاملات پر فعال سفارت کاری درکار ہے۔ نئی تعیناتی کے بعد ان امور پر پاکستان کی نمائندگی اور مذاکرات کی قیادت سید حیدر شاہ کریں گے۔