فورٹ مائرز: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کے امکان کا ذکر کیا ہے، ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ آٹھویں ماہ کے قریب پہنچ رہی ہے اور توانائی کی بلند قیمتیں امریکی داخلی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ فلوریڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ’ایک اور چھوٹی ایپک فیوری‘ کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے اس بیان کی مزید وضاحت نہیں کی۔
’آپریشن ایپک فیوری‘ وہ نام ہے جو امریکی فوج ایران کے خلاف جاری جنگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔ صدر کے تازہ ریمارکس کو کسی باقاعدہ فوجی حکم، منظور شدہ آپریشن یا طے شدہ حملے کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ وائٹ ہاؤس یا پینٹاگون کی جانب سے اس موقع پر کسی نئی کارروائی کا تفصیلی منصوبہ جاری نہیں کیا گیا۔
اسی روز ٹرمپ نے ایک الگ بیان میں کہا تھا کہ امریکا جنگ کو تیزی سے ختم کر سکتا ہے، مگر انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ واشنگٹن کو فوری خاتمہ تلاش کرنا چاہیے یا تنازع کو بتدریج کم ہونے دینا چاہیے۔ یہ بیانات امریکی حکمت عملی کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ خطے میں فوجی کارروائیوں، ایندھن کی قیمتوں اور شپنگ روٹس کے تحفظ کے اثرات مسلسل زیر بحث ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ایران اور لبنان میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی ہوئی ہے۔ دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا کہ دو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک ایسے راستے سے گزرتے ہوئے بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے جسے تہران نے غیر مجاز قرار دیا۔ اس دعوے کی تفصیلات ایرانی سرکاری میڈیا کے ذریعے سامنے آئیں اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں تھی۔
ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی کارروائی کے بارے میں فی الحال سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ صدر نے امکان کا اظہار کیا ہے، نہ کہ مکمل آپریشنل اعلان۔ کسی بھی نئی فوجی کارروائی کی تصدیق کے لیے سرکاری احکامات، پینٹاگون کی تفصیلات یا زمینی پیش رفت درکار ہوگی۔ خطے میں کشیدگی کے باعث توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اثرات بھی اہم نگرانی کے نکات رہیں گے۔

