واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے روس میں زیر حراست ریٹائرڈ امریکی استاد اسٹیفن ہبرڈ کی رہائی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ ٹرمپ نے منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اس کیس میں جلد کوئی پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم انہوں نے کسی طے شدہ رہائی یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔

رائٹرز کے مطابق ہبرڈ ایک ریٹائرڈ امریکی اسکول ٹیچر ہیں جنہیں ماسکو نے حراست میں رکھا ہوا ہے۔ امریکی صدر کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ان کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف یوکرین جنگ سے متعلق سفارتی رابطوں کے سلسلے میں روس جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ وٹکوف نے اس سے قبل اوسلو میں یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی تھی۔

ٹرمپ کے بیان کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ امریکی شہریوں کی بیرون ملک حراست کے معاملات اکثر واشنگٹن اور متعلقہ حکومت کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارت کاری کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم کسی زیر حراست شخص کی رہائی کے لیے قانونی، عدالتی اور سفارتی مراحل الگ ہو سکتے ہیں، اس لیے صدر کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کو خودکار طور پر رہائی کی تصدیق نہیں سمجھا جا سکتا۔

یوکرین جنگ کے پس منظر میں امریکا اور روس کے تعلقات کئی سطحوں پر کشیدہ رہے ہیں، لیکن دونوں ممالک نے بعض انسانی اور قیدیوں سے متعلق معاملات پر رابطے بھی جاری رکھے ہیں۔ ہبرڈ کا کیس اب اسی وسیع سفارتی رابطے میں ایک نمایاں انسانی معاملے کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ انہوں نے پوتن سے براہ راست اس موضوع پر بات کی۔ رائٹرز کی رپورٹ میں روسی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کسی حتمی رہائی کے شیڈول کی تصدیق بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے آئندہ پیش رفت کے لیے ماسکو یا واشنگٹن کی باضابطہ اطلاع اہم ہوگی۔

اس وقت دستیاب معلومات کے مطابق بنیادی تصدیق یہ ہے کہ امریکی صدر نے ہبرڈ کا معاملہ روسی صدر کے سامنے اٹھایا ہے اور ممکنہ پیش رفت کی امید ظاہر کی ہے۔ کسی معاہدے، تبادلے یا رہائی کی حتمی شرائط سامنے آنے تک اس کیس کو جاری سفارتی کوشش کے طور پر ہی دیکھا جائے گا۔