فلوریڈا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کرسکتا ہے، تاہم انہوں نے کسی ممکنہ حملے کے وقت، ہدف یا حتمی فیصلے کی تفصیل فراہم نہیں کی۔ فلوریڈا میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی فوج کی ایران سے متعلق موجودہ مہم کے نام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک اور محدود نوعیت کی کارروائی کرسکتا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ آٹھ ماہ کے قریب پہنچ رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کی رسد، بحری راستوں اور علاقائی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ امریکا میں بھی ایندھن کی بلند قیمتیں وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی بحث کا اہم موضوع بن چکی ہیں۔

ٹرمپ نے اسی روز یہ بھی کہا کہ امریکا جنگ کو تیزی سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن انہوں نے سوال اٹھایا کہ واشنگٹن کو فوری اختتام کی کوشش کرنی چاہیے یا تنازع کو بتدریج ختم ہونے دینا چاہیے۔ امریکی صدر ماضی میں جنگ کے اہداف اور مدت کے بارے میں مختلف بیانات دیتے رہے ہیں، اس لیے تازہ ریمارکس کو کسی باقاعدہ فوجی حکم یا طے شدہ آپریشن کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔

رواں ماہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔ تازہ بیان اس سابقہ مؤقف کے مقابلے میں زیادہ کھلا امکان ظاہر کرتا ہے، مگر وائٹ ہاؤس یا امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے فوری طور پر کسی نئے آپریشن کی تفصیلی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے مشرق وسطیٰ اور دیگر مقامات پر امریکی حکام کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کی ہیں۔ ان اطلاعات کی تفصیلات بڑی حد تک انٹیلی جنس ذرائع سے منسوب ہیں اور عوامی سطح پر مکمل شواہد جاری نہیں کیے گئے، اس لیے انہیں امریکی حکام اور میڈیا کی نسبت سے ہی بیان کیا جانا چاہیے۔

ایران کے خلاف کسی نئی امریکی فوجی کارروائی کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیج اور آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی عالمی تیل کی قیمتوں، جہاز رانی، انشورنس اور علاقائی اتحادیوں کی سلامتی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ فی الحال ٹرمپ کا بیان ممکنہ کارروائی کا سیاسی اشارہ ہے، حتمی فوجی فیصلہ نہیں۔