انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے آٹھ اکتوبر کو واضح کیا ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب کو حملوں سے دفاع میں مدد دینے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے، لیکن اس تعاون کو دوسرے ملک کی سرزمین پر جارحانہ فوجی کارروائی میں شرکت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی انتظام کے تناظر میں عسکری حکام ممکنہ ذمہ داریوں اور عملی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فیدان نے انقرہ میں ہنگری کی وزیر خارجہ انیتا اوربان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو یمن کے ایران سے منسلک حوثیوں کے حملوں کے مقابلے میں مدد دینے کے لیے فضائی دفاع، الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں اور تکنیکی معاونت جیسے شعبوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی مخصوص تعاون کی حتمی شکل فوجی وفود کے جائزے کے بعد سامنے آئے گی۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کرنے کی شق بیان کی گئی ہے۔ بعد میں تینوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری سطح پر مشاورت ہوئی اور رواں ہفتے دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد اور سعودی عرب میں دفاعی صلاحیتوں کی تیز تعیناتی سے متعلق اتفاق کا اعلان کیا گیا تھا۔

تاہم فیدان نے جارحانہ اور دفاعی کارروائیوں کے درمیان فرق پر زور دیا۔ ان کے مطابق معاہدے کا مقصد حملے کا سامنا کرنے والے رکن کو تحفظ فراہم کرنا ہے؛ ترکی کسی دوسرے ملک میں حملے کرنے کے لیے فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔ یہ بیان ترکی کی اعلان کردہ پالیسی کی وضاحت ہے، کسی بڑے فوجی آپریشن کی تصدیق نہیں۔

ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ متعلقہ فوجی وفود سعودی عرب کی عملی دفاعی ضروریات اور اس سلسلے میں ترکی و پاکستان کی ممکنہ شراکت کا تعین کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ترک حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الحال بعض مدد دوطرفہ بنیادوں پر فراہم کی جا سکتی ہے، کیونکہ ترکی کی پارلیمان نے مشترکہ دفاعی معاہدے کی باضابطہ توثیق ابھی نہیں کی۔ فیدان کے بقول پارلیمان میں معاہدہ پیش کرنے کی تیاری بڑی حد تک مکمل ہے اور اسے جلد آگے بڑھانے کا ارادہ ہے۔

ترکی نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی ہے اور ریاض کی تکنیکی دفاعی ضروریات پوری کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انقرہ نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت میں تعاون پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اس پورے معاملے میں اعلان کردہ دفاعی نیت، پارلیمانی توثیق کا مرحلہ اور ممکنہ عملی تعیناتی الگ الگ امور ہیں؛ فی الحال ان کے ہر جزو کو مکمل شدہ فوجی کارروائی قرار نہیں دیا جا سکتا۔