اسلام آباد: پیٹرولیم ڈویژن نے اعلان کیا ہے کہ ترک پیٹرولیم آف شور کمپنی کا سیسمک جہاز 17 سے 20 نومبر 2026 کے درمیان کراچی پہنچنے کی توقع ہے، جسے پاکستان کی آف شور تیل و گیس تلاش کی سرگرمیوں کی تقریباً دو دہائیوں بعد بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی زیر صدارت 6 نومبر کو ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں جہاز کی آمد، آپریشنل تیاریوں اور مختلف وفاقی و بحری اداروں کے درمیان رابطہ کاری کا جائزہ لیا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں ترک کمپنی کے پراجیکٹ منیجر، سیکریٹری پیٹرولیم، ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم، ڈائریکٹر جنرل پیٹرولیم کنسیشنز اور او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور جی ایچ پی ایل کے سربراہان شریک ہوئے۔ وزارت خارجہ، وزارت بحری امور، وزارت دفاع، وزارت داخلہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ، نیشنل ہائیڈروگرافک آفس اور ڈائریکٹوریٹ جنرل پورٹس اینڈ شپنگ کے نمائندے بھی موجود تھے۔ متعلقہ اداروں کو لاجسٹکس، بحری امور، سکیورٹی اور دیگر انتظامی تقاضوں کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ملک کی توانائی سلامتی کے لیے آف شور تلاش کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ ڈان کے مطابق 2025 میں پاکستان نے 18 سال کے وقفے کے بعد آف شور بلاکس کے لیے بولی کا عمل شروع کیا تھا اور بعد میں متعدد بلاکس مقامی کمپنیوں کی قیادت والے کنسورشیمز کو دیے گئے، جن میں ترک پیٹرولیم کے ساتھ شراکت بھی شامل ہے۔ ترک کمپنی ایسٹرن آف شور انڈس-سی بلاک میں آپریٹر کے طور پر حصہ رکھتی ہے، جبکہ پاکستانی سرکاری اور مقامی توانائی کمپنیاں بھی اس منصوبے میں شریک ہیں۔
وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے ترک جہاز کی آمد کو پاکستان اور ترکی کے توانائی تعاون میں نئے مرحلے سے تعبیر کرتے ہوئے حکومتی سہولت کاری کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم سیسمک سروے یا تلاش کا آغاز کسی تجارتی ذخیرے کی دریافت کی ضمانت نہیں ہوتا۔ آف شور علاقوں میں ممکنہ ہائیڈروکاربن وسائل کے بارے میں اندازے موجود ہیں، لیکن ان کی تجارتی مقدار اور قابلِعمل پیداوار کا تعین مزید سروے، تکنیکی تجزیے اور ممکنہ ڈرلنگ کے بعد ہی ہو سکے گا۔
