انقرہ: ترکیہ کی پارلیمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے میں ترکیہ کی شمولیت کی توثیق کر دی ہے۔ اس اقدام کے بعد انقرہ کے لیے سہ فریقی دفاعی انتظام میں شامل ہونے کا اہم داخلی قانونی مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاع اور سکیورٹی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے طے پایا تھا اور بعد میں ترکیہ کی شمولیت پر بات چیت آگے بڑھی۔
دستیاب رپورٹنگ کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان کی حکومت نے اس شمولیت کی حمایت کی اور معاملہ پارلیمانی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ توثیق کا مطلب یہ ہے کہ ترکیہ نے معاہدے میں شامل ہونے کے لیے اپنے داخلی طریقہ کار کا اہم حصہ مکمل کر لیا ہے، تاہم عملی دفاعی تعاون کی نوعیت، مشترکہ کمان یا کسی ممکنہ فوجی تعیناتی کے بارے میں تمام تفصیلات عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور دونوں ممالک تربیت، فوجی رابطوں اور سکیورٹی تعاون میں شریک رہے ہیں۔ ترکیہ کے پاکستان کے ساتھ بھی دفاعی صنعت، بحری تعاون، تربیت اور مشترکہ مشقوں کے شعبوں میں قریبی روابط ہیں۔ اس لیے سہ فریقی فریم ورک کو تینوں ممالک کے پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کو ایک وسیع تر انتظام کے تحت مربوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
معاہدے سے متعلق سیاسی بیانات میں باہمی سلامتی اور کسی رکن کے خلاف جارحیت کی صورت میں تعاون کے اصول پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود معاہدے کی مکمل شقیں اور ہر ممکن ہنگامی صورت حال میں فریقین کی لازمی ذمہ داریوں کی تفصیل محدود طور پر سامنے آئی ہے۔ اسی وجہ سے اس پیش رفت کو کسی مخصوص ملک کے خلاف فوری فوجی اقدام کے بجائے ایک دفاعی و سفارتی فریم ورک کی توسیع کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔ ترک پارلیمان کی توثیق کے بعد اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ تینوں حکومتیں عملی تعاون، مشترکہ منصوبہ بندی اور دفاعی رابطہ کاری کے لیے کون سے ادارہ جاتی اقدامات کرتی ہیں۔
