اسلام آباد: پاکستان نیوی نے کہا ہے کہ اس کے دو اہلکار سمندر میں سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے گشت کی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ بحریہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز کے بیان کے مطابق شہید اہلکاروں کی شناخت شعیب الرحمٰن اور غفران نثار کے نام سے کی گئی ہے۔ بیان میں واقعے کی نوعیت یا مقام کی مزید عملی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے دونوں اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ بحریہ کے مطابق سینئر افسران نے شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں اہلکار سمندری حدود اور بحری سکیورٹی سے متعلق اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

پاکستان نیوی نے رواں سال مارچ میں علاقائی سمندری صورتحال کے تناظر میں ’آپریشن محافظ البحر‘ شروع کیا تھا۔ بحریہ کے مطابق اس آپریشن کا مقصد قومی جہاز رانی، تجارتی بحری راستوں اور اہم سمندری گزرگاہوں کو مختلف نوعیت کے خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نگرانی اور سکیورٹی اقدامات مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت کیا گیا تھا جب خطے میں جنگ اور کشیدگی کے باعث اہم بحری راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات بڑھ گئے تھے۔

پاکستان کی بیرونی تجارت کا بڑا حصہ سمندری راستوں کے ذریعے ہوتا ہے، اس لیے بندرگاہوں، تجارتی جہازوں اور بحری مواصلاتی راستوں کی حفاظت قومی معیشت اور توانائی کی رسد کے لیے اہم ہے۔ خلیج اور بحیرہ عرب میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں جہاز رانی کی انشورنس، مال برداری کے اخراجات اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث بحری نگرانی کی ذمہ داری مزید حساس ہو جاتی ہے۔

تازہ واقعے کے بارے میں دستیاب سرکاری معلومات محدود ہیں اور بحریہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں اہلکار کس مخصوص حادثے یا کارروائی کے دوران جان سے گئے۔ اس لیے خبر میں صرف پاکستان نیوی کی جانب سے تصدیق شدہ معلومات شامل کی گئی ہیں۔ اگر بحریہ واقعے کی مزید تفصیلات جاری کرتی ہے تو اس سے گشت کے حالات اور شہادت کے اسباب کے بارے میں زیادہ واضح تصویر سامنے آ سکے گی۔