کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے پیر 14 ستمبر 2026 کو کہا کہ ان کا ملک روس کے اندر اہداف پر حملے روکنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے شراکت داروں کی جانب سے ایسی واضح اور قابلِ عمل ضمانتیں درکار ہیں جن سے ماسکو بھی یوکرین کی توانائی تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور خوراک کی ترسیل کے راستوں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔
زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں کہا کہ یوکرین کو اس بات کا یقین نہیں کہ روس کسی ممکنہ سمجھوتے کی پابندی کرے گا۔ ان کے مطابق اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے روکنے سے متعلق اقدام کشیدگی کم کرنے اور امن کی طرف پہلا قدم بن سکتا ہے، لیکن کسی بھی معاہدے کو قابلِ اعتماد، طویل مدتی اور عام لوگوں کی زندگی پر حقیقی اثر رکھنے والا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیف اپنے شراکت داروں سے اس بندوبست کی عملی تفصیلات چاہتا ہے۔
یوکرینی صدر کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوکرین اور روس ایک دوسرے کے توانائی اہداف پر حملے نہ کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔ زیلنسکی کے تازہ مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف نے کم از کم عوامی سطح پر ایسی کسی مکمل اور حتمی باہمی ڈیل کی تصدیق نہیں کی۔ انہوں نے اپنی آمادگی کو شرائط اور قابلِ نفاذ ضمانتوں سے جوڑا ہے۔
یوکرین اور روس کے درمیان توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جنگ کے دوران بار بار اہم مسئلہ رہے ہیں۔ بجلی پیدا کرنے والے مراکز، گرڈ، ایندھن کی تنصیبات اور دیگر اہم نظام متاثر ہونے سے شہری آبادی، صنعت اور رسد کے نظام پر براہ راست دباؤ پڑتا ہے۔ اسی لیے دونوں جانب سے توانائی اہداف کو حملوں سے الگ رکھنے کی کوئی قابلِ عمل مفاہمت وسیع تر جنگ بندی کی کوششوں میں اعتماد سازی کا قدم بن سکتی ہے۔
تاہم موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ بندی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ زیلنسکی نے پورے محاذ پر لڑائی روکنے کا اعلان نہیں کیا، بلکہ مخصوص اقسام کے اہداف، خاص طور پر اہم انفراسٹرکچر، پر حملے روکنے کے ممکنہ بندوبست کی بات کی ہے۔ اسی طرح روس کی جانب سے بھی اس تازہ یوکرینی شرط کے جواب میں کسی نئے، حتمی اور قابلِ نفاذ معاہدے کی تصدیق رائٹرز کی اس رپورٹ میں سامنے نہیں آئی۔
زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کو بنیادی مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی کی قابلِ اعتماد شروعات ضروری ہے۔ ان کا زور اس بات پر تھا کہ محض سیاسی اعلان کے بجائے ایسا طریقہ کار سامنے آئے جس کے تحت دونوں فریق کی پابندی کی تصدیق ہو سکے اور شہریوں کی روزمرہ زندگی، توانائی کی فراہمی اور خوراک کی ترسیل کو حقیقی تحفظ ملے۔
