امریکا نے پہلی بار عوامی طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے مدار میں ایسے ’اسپیس کنٹرول‘ ہتھیار تعینات کیے ہیں جو امریکی افواج کو مخالف قوتوں کی کارروائی سے بچانے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے 14 ستمبر کو میری لینڈ میں ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا، جسے امریکی فضائیہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر بھی شائع کیا ہے۔

مینک نے کہا کہ امریکا کے پاس مدار میں ایسے خلائی کنٹرول ہتھیار موجود ہیں جو مشترکہ امریکی افواج کو دشمنانہ کارروائی کے خلاف دفاع فراہم کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان ہتھیاروں کی تعداد کتنی ہے، وہ کن مداروں میں ہیں یا ان کی عملی صلاحیتیں کیا ہیں۔ ڈان اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکومت نے خلا میں ہتھیار تعینات کرنے کا اس قدر واضح عوامی اعتراف کیا ہے۔

امریکی فضائیہ کے سرکاری بیان میں ’اسپیس کنٹرول‘ کو ایسی صلاحیتوں سے جوڑا گیا ہے جو مخالف کی خلائی صلاحیتوں کو متاثر کرنے کے لیے حرکی اور غیر حرکی دونوں طریقے استعمال کر سکتی ہیں۔ غیر حرکی ذرائع میں نظری طور پر سیٹلائٹ کے سینسرز کو متاثر کرنے والے لیزر، برقی مقناطیسی مداخلت یا ڈیٹا لنکس میں خلل ڈالنے والی سائبر و جیمِنگ صلاحیتیں شامل ہو سکتی ہیں، لیکن واشنگٹن نے یہ تصدیق نہیں کی کہ اس وقت مدار میں موجود نظاموں میں کون سی مخصوص ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے۔

اعلان پر چین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خلا کو میدانِ جنگ بنانے اور ہتھیاروں کی دوڑ بڑھانے کی مخالفت کی۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے امریکا سے خلائی فوجی صلاحیتوں کی توسیع روکنے کا مطالبہ کیا۔ روسی حکومت نے بھی کہا کہ خلا کو ہتھیاروں سے آزاد رکھا جانا چاہیے اور اس مقصد کے لیے وسیع بین الاقوامی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ یہ دونوں ردعمل متعلقہ حکومتوں کے موقف ہیں؛ کسی نئے بین الاقوامی معاہدے یا فوری پابندی کا اعلان نہیں ہوا۔

خلائی سلامتی کے معاملے میں بڑی طاقتوں کے درمیان کشیدگی نئی نہیں۔ امریکا، روس، چین اور بھارت ماضی میں اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں کا مظاہرہ یا ان کی تیاری کر چکے ہیں۔ فوجی مواصلات، میزائل وارننگ، نیویگیشن، انٹیلی جنس اور نگرانی کے لیے سیٹلائٹس کی اہمیت بڑھنے کے ساتھ خلا کو ممکنہ تنازع کا ایک اہم میدان سمجھا جا رہا ہے۔

1967 کا آؤٹر اسپیس ٹریٹی مدار میں جوہری اور دیگر وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنے سے روکتا ہے، لیکن روایتی یا غیر حرکی خلائی ہتھیاروں کے بارے میں جامع عالمی ضابطہ موجود نہیں۔ اسی قانونی خلا کے باعث ممالک ’ذمہ دارانہ رویے‘، ہتھیار نہ رکھنے کے معاہدوں اور سیٹلائٹ مخالف صلاحیتوں کے ضابطے پر طویل عرصے سے اختلاف رکھتے ہیں۔

امریکی اعلان کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ واشنگٹن نے اب تک مدار میں اپنے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں زیادہ ابہام رکھا تھا۔ موجودہ تصدیق اس ابہام کو کم کرتی ہے، لیکن نظاموں کی نوعیت، تعیناتی کی حد اور عملی استعمال کے قواعد بدستور خفیہ ہیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکا نے کسی مخصوص خلائی حملہ آور ہتھیار کی مکمل تفصیل ظاہر کر دی ہے؛ تصدیق صرف اتنی ہے کہ مدار میں اسپیس کنٹرول ہتھیار تعینات ہیں۔