امریکی ایوان نمائندگان نے ایسا بل منظور کرلیا ہے جس کے تحت اسرائیل کے بائیکاٹ میں شامل جامعات کی وفاقی مالی معاونت روکی جاسکے گی۔ ریپبلکن اکثریت والے ایوان میں ’’پروٹیکٹ اکنامک اینڈ اکیڈمک فریڈم ایکٹ‘‘ کے حق میں 237 اور مخالفت میں 169 ووٹ پڑے۔ یہ منظوری تین ستمبر 2026 کو ہوئی، لیکن بل ابھی امریکی قانون نہیں بنا۔
ڈان میں شائع رائٹرز رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون کو نافذ ہونے کے لیے سینیٹ سے منظور ہونا اور پھر آئینی طریقۂ کار مکمل کرنا ضروری ہے۔ اس لیے ایوان نمائندگان کا ووٹ ایک اہم قانون ساز مرحلہ ہے، حتمی قانونی نتیجہ نہیں۔ سینیٹ میں متن تبدیل ہونے یا منظوری نہ ملنے کی صورت میں بل کی آئندہ شکل اور حیثیت مختلف ہوسکتی ہے۔
ووٹنگ بڑی حد تک جماعتی بنیادوں پر ہوئی۔ صرف دو ریپبلکن ارکان نے بل کی مخالفت کی، جبکہ 33 ڈیموکریٹس نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مقصد تعلیمی بحث یا علمی اظہار کو روکنا نہیں بلکہ اسرائیل اور یہودیت کو مخصوص انداز میں ہدف بنانے والی ادارہ جاتی بائیکاٹ پالیسیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ حامی قانون سازوں کی بیان کردہ تشریح ہے، جس کے اطلاق کی عملی حدود بعد کی قانون سازی اور ممکنہ عدالتی جانچ سے واضح ہوں گی۔
مخالفت کرنے والوں نے آزادی اظہار اور جامعات کی ادارہ جاتی خودمختاری کے بارے میں خدشات اٹھائے۔ نیویارک سے ڈیموکریٹ رکن جیروڈ نیڈلر نے کہا کہ وہ عالمی بائیکاٹ، سرمایہ نکالنے اور پابندیوں کی تحریک، جسے بی ڈی ایس کہا جاتا ہے، کے مخالف ہیں، لیکن انہوں نے بل کے خلاف ووٹ دیا کیونکہ ان کے نزدیک ناپسندیدہ سیاسی اظہار کا تحفظ بھی آزاد اظہار کے اصول کا حصہ ہے۔
بی ڈی ایس تحریک اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کے خلاف اقتصادی، ثقافتی اور ادارہ جاتی دباؤ کی وکالت کرتی ہے۔ اس کے حامی اسے فلسطینی حقوق کی پرامن مہم کہتے ہیں، جبکہ اسرائیل اور اس کے حامی حلقے اسے امتیازی یا یہودی مخالف قرار دیتے ہیں۔ تازہ امریکی بل اسی دیرینہ تنازع میں جامعات کی وفاقی فنڈنگ کو ایک نئے قانونی آلے کے طور پر سامنے لاتا ہے۔
غزہ میں اکتوبر 2023 کے بعد جاری جنگ اور تباہی نے امریکی جامعات میں مظاہروں، کیمپس احتجاج اور اسرائیل سے مالی یا تعلیمی روابط ختم کرنے کے مطالبات کو بڑھایا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کانگریس کے کئی ریپبلکن ارکان نے بعض احتجاجی سرگرمیوں کو یہود مخالف یا انتہاپسندی کی حمایت قرار دیا ہے۔ مظاہرین اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلسطینی حقوق کی حمایت اور اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں پر تنقید کو یہود دشمنی کے برابر نہیں رکھا جانا چاہیے۔
یہ اختلاف صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں بلکہ امریکی آئینی آزادیوں، امتیازی سلوک کے قوانین، وفاقی گرانٹس اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داریوں سے بھی جڑا ہے۔ بل کا اصل اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ ’’بائیکاٹ‘‘ کی قانونی تعریف کیا رکھی جاتی ہے، کن ادارہ جاتی فیصلوں پر پابندی لاگو ہوگی اور آیا انفرادی طلبہ، اساتذہ یا تحقیقی سرگرمیوں کے اظہار پر کوئی بالواسطہ اثر پڑتا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ان تمام نفاذی سوالات کی تفصیلی ضابطہ بندی شامل نہیں۔
چار ستمبر تک تصدیق شدہ صورت حال یہ ہے کہ ایوان نمائندگان نے بل منظور کیا ہے اور اسے سینیٹ جانا ہے۔ جامعات کی امداد فوری طور پر بند ہونے، کسی مخصوص ادارے کے خلاف کارروائی یا عدالت کے فیصلے کی خبر نہیں۔ لہٰذا اس پیش رفت کو منظور شدہ ایوانی بل کے طور پر بیان کیا جانا چاہیے، نافذ شدہ وفاقی قانون کے طور پر نہیں۔




