واشنگٹن: امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے تین ستمبر 2026 کو ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کے تجارتی یا تعلیمی بائیکاٹ میں شریک کالجوں اور جامعات کی بعض وفاقی امدادی پروگراموں کے لیے اہلیت محدود کی جا سکے گی۔ ایچ آر 4795، جسے پروٹیکٹ اکنامک اینڈ اکیڈمک فریڈم ایکٹ کا نام دیا گیا ہے، 237 کے مقابلے میں 169 ووٹوں سے منظور ہوا۔

امریکی ایوان کے کلرک کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 237 ارکان نے بل کی حمایت، 169 نے مخالفت کی اور 27 ارکان نے ووٹ نہیں دیا۔ جماعتی تقسیم میں 203 ریپبلکن، 33 ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن حق میں تھے، جبکہ دو ریپبلکن اور 167 ڈیموکریٹس نے مخالفت کی۔ یہ ایوان کی منظوری ہے؛ بل ابھی قانون نہیں بنا۔

مجوزہ قانون ان تعلیمی اداروں کو ہدف بناتا ہے جو وفاقی طلبہ امداد کے پروگراموں میں شریک ہیں اور خود اسرائیل کے خلاف غیر اظہار پر مبنی تجارتی بائیکاٹ اختیار کرتے ہیں۔ اس میں بین الاقوامی تعلیم اور غیر ملکی زبان کے بعض وفاقی فنڈز لینے والے اداروں سے سالانہ تصدیق کا تقاضا بھی شامل ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو اسرائیل میں پروگراموں میں شرکت یا اسرائیلی طلبہ و اداروں کو امریکی کیمپس پر تعلیمی سرگرمیوں سے غیر معقول طور پر نہیں روک رہے۔

بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وفاقی ٹیکس دہندگان کی رقم ایسے اداروں کو نہیں ملنی چاہیے جو کسی ایک ملک، اس کے تعلیمی اداروں یا طلبہ کے خلاف امتیازی بائیکاٹ کریں۔ شریک پیش کنندہ ڈیموکریٹ رکن جوش گوٹہائمر نے مؤقف اختیار کیا کہ بل کا مقصد علمی بحث یا اظہار پر قدغن نہیں بلکہ اسرائیلی شراکت داری، تحقیق اور تبادلہ پروگراموں میں امتیازی رکاوٹ روکنا ہے۔

مخالف ارکان نے بل کے دائرے اور آزادیِ اظہار پر ممکنہ اثرات پر اعتراض کیا۔ ڈیموکریٹ رکن جیروڈ نڈلر نے کہا کہ وہ بائیکاٹ، ڈائیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز، یا بی ڈی ایس، تحریک کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن سیاسی اظہار اور بائیکاٹ کے حق کے تحفظ کی وجہ سے بل کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ایوان کی تعلیمی کمیٹی کے سینئر ڈیموکریٹ بوبی اسکاٹ نے اسے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ طلبہ کے سیاسی مؤقف اور کسی یونیورسٹی کی سرکاری پالیسی کو ایک نہیں سمجھنا چاہیے۔

بی ڈی ایس تحریک فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کے خلاف معاشی، ثقافتی اور تعلیمی دباؤ کی مہم چلاتی ہے۔ غزہ جنگ کے بعد امریکی جامعات میں فلسطینی حقوق کے حق میں احتجاج اور بائیکاٹ کے مطالبات بڑھے۔ امریکی انتظامیہ اور کئی ریپبلکن سیاست دان بعض احتجاجی سرگرمیوں کو یہود دشمنی یا انتہا پسندی سے جوڑتے ہیں، جبکہ مظاہرین اس الزام کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسرائیلی حکومتی پالیسی اور غزہ میں کارروائیوں پر تنقید کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دونوں مؤقف سیاسی تنازع کا حصہ ہیں۔

بل کے متن اور حمایتی بیانات میں تعلیمی تقریر، مباحثے یا انفرادی طلبہ و اساتذہ کے ذاتی اظہار کو براہِ راست بند کرنے کی نفی کی گئی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ وفاقی فنڈنگ کو بائیکاٹ کی تعریف سے جوڑنے سے ادارے جائز سیاسی یا انتظامی فیصلوں پر بھی دباؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ اس قانونی اختلاف کا حتمی دائرہ سینیٹ میں ممکنہ ترامیم، انتظامی قواعد اور اگر قانون چیلنج ہوا تو عدالتی تشریح سے واضح ہوگا۔

اگلا مرحلہ امریکی سینیٹ ہے۔ وہاں بل اسی متن میں منظور ہو تو اسے صدر کے سامنے بھیجا جا سکتا ہے؛ سینیٹ اگر تبدیلیاں کرے تو دونوں ایوانوں کو ایک ہی متن پر اتفاق کرنا ہوگا۔ سینیٹ کی منظوری نہ ملنے کی صورت میں ایوان کی ووٹنگ کے باوجود بل نافذ نہیں ہوگا۔

اس لیے تین ستمبر کی تصدیق شدہ پیش رفت صرف یہ ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے ایچ آر 4795 منظور کیا اور اسے قانون سازی کے اگلے مرحلے میں بھیج دیا۔ کسی یونیورسٹی کی امداد اس ووٹ کے فوراً بعد خودکار طور پر بند نہیں ہوئی، اور نہ ہی یہ پورے امریکا میں نافذ حتمی قانون بن چکا ہے۔