واشنگٹن: امریکا میں ایک دوسرے وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی حمایت سے متعارف کرائے گئے امریکی پوسٹل سروس کے نئے میل ووٹنگ قواعد پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا ہے۔ واشنگٹن میں امریکی ڈسٹرکٹ جج کارل نکولس نے ڈیموکریٹک پارٹی اور شہری حقوق کی تنظیموں، جن میں این اے اے سی پی بھی شامل ہے، کی درخواست پر ابتدائی حکم امتناع جاری کیا۔
نئے قواعد کے تحت ریاستوں سے کہا گیا تھا کہ وہ ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی فہرست امریکی پوسٹل سروس کو فراہم کریں اور بھیجے جانے والے اور واپس آنے والے بیلٹ لفافوں پر منفرد بارکوڈ لگائیں۔ ضابطے میں پوسٹل سروس کو یہ اختیار بھی دیا گیا تھا کہ وہ ان ووٹروں کے بیلٹس پہنچانے سے انکار کر سکے جن کے نام متعلقہ فہرستوں میں نہ ہوں یا ایسی ریاستوں کے بیلٹس قبول نہ کرے جو مقررہ شرائط پوری نہ کریں۔
جج نکولس نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وفاقی قانون پوسٹل سروس کو نئے ضابطے کے بعض بنیادی حصوں پر عمل درآمد کا اختیار نہیں دیتا۔ ان کے مطابق یہ قواعد بعض شہریوں کے لیے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنا مشکل بنا سکتے ہیں۔ مقدمہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے، جن میں ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے سیاسی کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔
یہ اسی پالیسی کے خلاف دوسرا اہم عدالتی حکم ہے۔ اس سے قبل بوسٹن کی وفاقی جج اندرا تلوانی نے 4 ستمبر کو ڈیموکریٹ اکثریتی ریاستوں اور ووٹنگ رائٹس گروپس کی درخواست پر ضابطہ روک دیا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ اس پہلے فیصلے کے خلاف امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے، اور محکمہ انصاف نے نئے حکم کے بارے میں بھی اعلیٰ عدالت کو آگاہ کیا ہے۔ اس لیے پالیسی کی حتمی قانونی حیثیت ابھی طے نہیں ہوئی۔
قواعد کے مخالفین کا مؤقف ہے کہ امریکی آئین انتخابات کے انتظام کی بنیادی ذمہ داری ریاستوں کو دیتا ہے اور وفاقی انتظامیہ کو ووٹر اہلیت یا میل بیلٹ کے ڈیزائن میں اس حد تک مداخلت کا اختیار نہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نئے ضابطے سے اہل ووٹرز حق رائے دہی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب محکمہ انصاف نے عدالت میں کہا ہے کہ پوسٹل سروس ریاستی انتخابی قوانین کو منسوخ نہیں کر رہی اور نہ ہی قواعد کا مقصد کسی اہل ووٹر کو میل کے ذریعے ووٹنگ سے روکنا ہے۔
امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی کسی نہ کسی شکل کی اجازت ہے۔ 29 ریاستیں ووٹر کو کسی خاص وجہ کے بغیر میل بیلٹ کی درخواست کی اجازت دیتی ہیں، جبکہ آٹھ ریاستیں انتخابات مکمل طور پر ڈاک کے ذریعے کراتی ہیں۔ موجودہ حکم ابتدائی نوعیت کا ہے؛ اس سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی مستقل طور پر کالعدم نہیں ہوئی، اور معاملہ اعلیٰ عدالتوں میں مزید قانونی جانچ سے گزر سکتا ہے۔
