واشنگٹن: امریکہ نے میانمار کی فوجی حمایت یافتہ حکومت سے براہ راست رابطوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جسے 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد طویل سفارتی فاصلے کے تناظر میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔ آٹھ اکتوبر کو رائٹرز کی تحقیقاتی رپورٹ میں موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں سمیت متعدد متعلقہ افراد کے حوالے سے بتایا گیا کہ رابطوں کا مرکزی مقصد امریکہ کے مفادات سے متعلق فوری مسائل پر بات چیت کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ میں انٹیلی جنس اور تحقیق کے اسسٹنٹ سیکریٹری مائیکل وینس نے میانمار سے رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ 15 اور 16 ستمبر کو میانمار کے دارالحکومت نیپیداو میں فوجی سربراہ سے صدر بننے والے من آنگ ہلائنگ کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہوئے۔ بات چیت میں امریکی کاروباری شخصیت ایڈم کاسٹیلو کی رہائی کا معاملہ زیر بحث آیا، جبکہ دیگر متعلقہ موضوعات کے لیے بھی رابطے کا موقع پیدا ہوا۔

رائٹرز کے مطابق یہ گزشتہ پانچ برسوں میں دونوں جانب اعلیٰ سطح کے اہم ترین براہ راست روابط میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میانمار میں قائم بعض آن لائن دھوکا دہی کے مراکز، جن کا نشانہ امریکی شہری بھی بنتے ہیں، بند کرانے کے لیے تعاون کی کوششیں اس رابطے کا ایک بڑا سبب ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکہ اور میانمار کے حکام کے مابین نایاب زمینی معدنیات تک رسائی کا موضوع زیر بحث آیا؛ تاہم ان معدنی ذخائر کے بہت سے علاقے فوجی حکومت کے مخالف نسلی مسلح گروہوں کے کنٹرول میں ہیں، اس لیے کسی فوری تجارتی نتیجے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق امریکہ اپنے مفادات سے جڑے مسائل پر میانمار کے مختلف گروہوں سے رابطہ کرتا ہے اور تشدد بند کرنے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کی ضرورت بھی اٹھاتا ہے۔ میانمار کی فوجی حمایت یافتہ حکومت کے ترجمان نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔ رپورٹ میں بیان کردہ بعض مذاکراتی تفصیلات نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع پر مبنی ہیں اور انہیں متعلقہ ذرائع سے منسوب سمجھنا ضروری ہے۔

میانمار کی فوج نے فروری 2021 میں اقتدار سنبھالا تھا۔ فوجی قیادت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات اور امریکی پابندیاں برقرار ہیں۔ امریکہ نے روہنگیا آبادی کے خلاف 2016 اور 2017 میں ہونے والے مظالم کو نسل کشی قرار دیا ہے۔ رائٹرز نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عہدیداروں کے حوالے سے راکھائن میں حالیہ فضائی حملے اور اس کے جانی نقصان کا بھی ذکر کیا، جو ملک میں جاری تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی پالیسی میں اس تبدیلی پر واشنگٹن میں تنقید بھی ہوئی ہے۔ بعض ارکان کانگریس کا خیال ہے کہ فوجی قیادت سے اعلیٰ سطح کا رابطہ اسے عالمی قبولیت دے سکتا ہے، جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ ضروری ہے۔ واضح رہے کہ مذاکرات اور سفارتی رابطے پابندیوں کے خاتمے یا میانمار کی حکومت کو غیر مشروط تسلیم کرنے کے مترادف نہیں۔