اسلام آباد: عالمی بینک نے اپنے تازہ علاقائی اقتصادی جائزے میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل MENAAP خطے میں انتہائی غربت کا بوجھ بڑی حد تک پاکستان میں مرکوز ہے۔ ڈان کے مطابق بینک کا اندازہ ہے کہ یومیہ 3 ڈالر کی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے خطے کے تقریباً 48 فیصد افراد پاکستان میں ہیں۔

عالمی بینک نے کہا کہ MENAAP دنیا کا وہ خطہ ہے جہاں غربت اب بھی وبا سے پہلے کی سطح سے بلند ہے اور اس میں اضافہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان، شام اور یمن مل کر خطے کے مزید تقریباً 47 فیصد انتہائی غریب افراد کا حصہ رکھتے ہیں۔ 2024 میں خطے کی 14.3 فیصد آبادی یومیہ 3 ڈالر سے کم پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی تناسب 10.4 فیصد بتایا گیا۔

پاکستان کے بارے میں بینک نے کہا کہ 2018-19 سے 2024-25 کے دوران یومیہ 3 ڈالر کی لکیر پر غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا۔ ادارے نے اس تبدیلی کو کووڈ-19، 2022 کے تباہ کن سیلاب، بلند مہنگائی اور روپے کی قدر میں کمی سے جڑے معاشی بحران اور طویل اقتصادی ایڈجسٹمنٹ جیسے متعدد منفی جھٹکوں سے منسلک کیا، جنہوں نے حقیقی گھریلو آمدنی اور روزگار کے مواقع پر دباؤ ڈالا۔

اقتصادی منظرنامے میں عالمی بینک نے پاکستان کی حقیقی GDP نمو FY25 میں 3.2 فیصد، FY26 میں 3.7 فیصد اور FY27 میں 3.8 فیصد رہنے کا تخمینہ دیا ہے۔ بینک کے مطابق خدمات، مینوفیکچرنگ اور لائیو اسٹاک میں نسبتاً مضبوط سرگرمی نمو کو سہارا دے سکتی ہے، تاہم بلند اجناس اور نقل و حمل کی لاگت مہنگائی اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

رپورٹ نے غذائی عدم تحفظ اور موسمی خطرات کو بھی اہم قرار دیا۔ عالمی بینک کے مطابق 2026 کے آخر میں معمول سے زیادہ مضبوط ال نینو کی صورت میں خوراک کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے اور پاکستان بدلتے مون سون حالات کے ذریعے اس خطرے سے براہ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اعداد عالمی بینک کے تخمینے ہیں اور آئندہ معاشی و موسمی حالات کے مطابق تبدیل ہو سکتے ہیں۔