لاہور میں عالمی بینک کے ایک مشن نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی، سمیڈا، کا دورہ کرکے پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے ممکنہ تعاون کے شعبوں پر بات چیت کی ہے۔ ملاقات میں مالی وسائل تک رسائی، نئی ٹیکنالوجی اپنانے اور مہارتوں کی ترقی کو ایسے اہم شعبوں کے طور پر زیر بحث لایا گیا جن کے ذریعے ایس ایم ایز کی مسابقت اور ترقی کی صلاحیت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔
عالمی بینک کے وفد میں سینئر پرائیویٹ سیکٹر اسپیشلسٹ کرن افضل، سینئر اکانومسٹ خاویر سانچیز-ریزا اور سینئر اکانومسٹ کوان مارٹن گیون شامل تھے۔ سمیڈا کی جانب سے شہریار طاہر، راجہ حسنین جاوید، جاوید افضل اور دیگر سینئر حکام نے ملاقات میں شرکت کی۔ دونوں فریقوں نے موجودہ ایس ایم ای ترقیاتی اقدامات کا جائزہ لیا اور ان شعبوں کی نشاندہی کی جہاں ادارہ جاتی تعاون عملی فائدہ دے سکتا ہے۔
ملاقات میں تعاون کو باقاعدہ شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت، یعنی ایم او یو، یا کسی دوسرے مناسب انتظامی فریم ورک کے امکان پر بھی گفتگو ہوئی۔ تاہم ابھی کسی ایم او یو پر دستخط نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی مخصوص مالی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مرحلے پر معاملہ ممکنہ شراکت داری اور عملی طریقہ کار کی تلاش تک محدود ہے۔
سمیڈا حکام نے وفد کو ایس ایم ای پالیسی 2021، اس کے ایکشن پلان اور ادارے کے تین سالہ بزنس پلان کے اہم نکات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں کم سہولت یافتہ علاقوں پر توجہ، فنانس تک رسائی، برآمدی تیاری، خواتین کی کاروباری سرگرمیوں، مائیکرو انٹرپرائزز، ڈیجیٹلائزیشن، ای کامرس، نیشنل سب کنٹریکٹنگ ڈیولپمنٹ پروگرام اور کاروباری سرٹیفکیشن کے لیے گرانٹ پر مبنی معاونت جیسے شعبے شامل تھے۔
موسمیاتی لچک اور گرین فنانس کو بھی ابھرتی ہوئی ترجیحات کے طور پر پیش کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ تعاون کو خاص طور پر ایسے چھوٹے کاروباروں تک کیسے پہنچایا جا سکتا ہے جو روایتی مالیاتی اور تکنیکی معاونت سے کم مستفید ہوتے ہیں، جن میں خواتین کی قیادت والے کاروبار اور مائیکرو انٹرپرائزز شامل ہیں۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ زیر غور تعاون کو کسی باقاعدہ معاہدے، پروگرام یا قابل پیمائش مشترکہ منصوبے میں تبدیل کیا جاتا ہے یا نہیں۔

