روم: اقوامِ متحدہ کی خوراک و زراعت تنظیم، ایف اے او، نے کہا ہے کہ اگست 2026 میں عالمی خوراک کی قیمتیں نومبر 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ چار ستمبر کو جاری کیے گئے ایف اے او فوڈ پرائس انڈیکس کی اوسط 133.3 پوائنٹس رہی، جو جولائی کی نظرثانی شدہ 130.8 پوائنٹس کی سطح سے 2.5 پوائنٹس یا 1.9 فیصد زیادہ ہے۔
ایف اے او کے مطابق اشاریہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں 3.3 پوائنٹس، یعنی 2.5 فیصد بلند رہا، تاہم مارچ 2022 کی ریکارڈ چوٹی سے اب بھی 26.9 پوائنٹس یا 16.8 فیصد نیچے ہے۔ یہ اشاریہ بین الاقوامی منڈی میں تجارت ہونے والی خوراکی اجناس کی ماہانہ قیمتوں کی پیمائش کرتا ہے؛ اسے کسی ایک ملک کی دکانوں میں صارفین کو ملنے والی خوردہ مہنگائی کی شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔
اگست میں اشاریے کے پانچوں بڑے گروپ، یعنی اناج، نباتاتی تیل، چینی، گوشت اور ڈیری مصنوعات، ماہانہ بنیاد پر بڑھے۔ اناج کا اشاریہ 2.2 فیصد اضافے سے 116.3 پوائنٹس تک پہنچا، جو مئی 2024 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ ایف اے او نے مضبوط طلب، بڑے پیداواری علاقوں میں موسم سے متعلق خدشات اور بحیرۂ اسود کے راستے برآمدات میں غیر یقینی کو اس اضافے کے اہم عوامل بتایا۔
عالمی گندم کی قیمتیں جولائی سے 2.6 فیصد اور ایک سال پہلے سے 15 فیصد زیادہ رہیں۔ یورپ کے بعض حصوں میں گرم اور خشک موسم، بحیرۂ اسود کی ترسیل میں رکاوٹ اور کمزور امریکی ڈالر نے قیمتوں کو سہارا دیا۔ مکئی کی قیمت میں 2.5 فیصد اضافہ ہوا، جسے امریکا کے کارن بیلٹ اور یورپی یونین میں پیداوار کے خدشات، چارے و ایتھنول کی طلب اور یوکرینی برآمدی بہاؤ میں خلل سے جوڑا گیا۔ چاول کا عالمی اشاریہ بھی 0.5 فیصد بڑھا۔
نباتاتی تیل کا اشاریہ 0.6 فیصد اضافے سے 196.9 پوائنٹس ہوا، جو جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے اور مسلسل تیسرا ماہانہ اضافہ ہے۔ پام اور سویا تیل کی قیمتیں بڑھیں، جبکہ سورج مکھی اور ریپ سیڈ تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی نے مجموعی اضافے کو محدود رکھا۔ پام آئل کے لیے مضبوط درآمدی طلب اور جنوب مشرقی ایشیا میں ال نینو کے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔
چینی کا اشاریہ 11.9 فیصد چھلانگ لگا کر 106.4 پوائنٹس تک پہنچا اور جون 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر آ گیا۔ ایف اے او نے یورپی یونین میں گرم و خشک موسم سے چقندر کی پیداوار کے کم تخمینوں، ایشیا میں ال نینو سے متعلق خطرات، برازیل کے مرکزی جنوبی علاقے میں کم پیداوار اور بھارت کی جانب سے خام چینی کی ڈیوٹی فری درآمد کے اعلان کو اس تیزی سے جوڑا۔
گوشت کے اشاریے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ پولٹری، سور اور بھیڑ کے گوشت کی بین الاقوامی قیمتیں بڑھیں، لیکن گائے کے گوشت کی کم قیمت نے اضافے کا کچھ حصہ متوازن کیا۔ ڈیری اشاریہ چار ماہ میں پہلی بار بڑھا اور 2.3 فیصد اضافے سے 119.2 پوائنٹس رہا؛ دودھ پاؤڈر اور پنیر مہنگے ہوئے، جبکہ مکھن کی قیمت تقریباً مستحکم رہی۔ ڈیری اشاریہ اس اضافے کے باوجود ایک سال پہلے سے 21.7 فیصد کم تھا۔
ایف اے او نے الگ رسد رپورٹ میں 2026 کی عالمی اناج پیداوار کا اندازہ جولائی کے سابق تخمینے سے 34 لاکھ ٹن کم کر کے 2.980 ارب ٹن کر دیا۔ یہ مقدار 2025 سے دو فیصد کم اور 2018 کے بعد سب سے بڑی سالانہ کمی ہوگی، اگرچہ مجموعی پیداوار اب بھی ریکارڈ کی دوسری بلند ترین سطح رہنے کی توقع ہے۔ 2026-27 کے اختتام پر عالمی اناج ذخائر کا تخمینہ 1.1 فیصد کم کر کے 947.2 ملین ٹن کیا گیا۔
ایف اے او کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے موسمی جھٹکوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی رسد میں خلل کے یکجا ہونے کو عالمی خوراک منڈی میں خطرے کے اضافی پریمیم کی واپسی قرار دیا۔ یہ تنظیم کا تجزیہ ہے؛ مختلف اجناس اور ملکوں پر اثر یکساں نہیں ہوگا۔ مقامی قیمتوں پر شرحِ مبادلہ، درآمدی محصول، ٹرانسپورٹ، ذخائر، مقامی پیداوار اور سرکاری پالیسی بھی اثرانداز ہوتے ہیں۔
چار ستمبر کی تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ اگست کا عالمی اشاریہ 133.3 پوائنٹس تک بڑھا، تمام بڑے خوراکی گروپ مہنگے ہوئے اور ایف اے او نے اناج کی پیداوار و ذخائر کے تخمینے کم کیے۔ کسی مخصوص ملک میں خوردہ خوراک کی قیمت کتنی بڑھے گی، اس کا نتیجہ اس عالمی اشاریے سے براہِ راست اور یکساں طور پر اخذ نہیں کیا جا سکتا۔




